Donate

رمضان کے ایام متبرکات میں محتاجوں اور بے سہاروںکیلئے امداد کے نام پر

عطیات جمع کرنے کا سلسلہ جاری ،اس بارے میں حقائق جاننے اور تحقیقات کرنا لازمی

سرینگر // آئے روزبالعموم اور رمضان مبارک کے مقدس ایام میں بالخصوص ’’قیمتی جان بچانے ‘‘کے اشتہارات مشتہر کئے جاتے ہیں اور ’’غریبوں کی امداد ‘‘کے حوالے سے اپیل جارہی ہے یا گاڑیوںمیں لوڈ اسپیکر پر نعت خوانی اودرد بھری فریاد لے کر قریہ قریہاور بستی بستی جا تے ہیں ۔صاحب ثروت افراد میں سے ایک خاصی تعداد ان اشتہارات اور ان اعلانات کی نیک نیتی کی بنیاد پرحامی بھر کر گاڑی لیکر بستی میں داخل ہوئے افراد کے ہاتھوں میں نقدی وجنسی امداد تھما دیتے ہیں یا مشتہر کئے ہوئے بنک کھاتوں میں خیرداریں کیلئے جمع کرتے ہیں اور ان کو اس بات پر ایمان کامل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عوض ان کو آخرت میں معاوضہ عطا کرے گا ۔کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے حساس اور ذی عزت شہریوںنے بتایا کہ اخبارات یا سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس پر آئے روز گردے کے مرض میں مبتلا مریض یا مریضہ کی قیمتی جان بچائیں کے اشتہارات معہ اکاونٹ نمبرسامنے آتے ہیں ۔بسا اوقات مریض کا اکاونٹ نمبر درج ہوتا اور بعض اوقات کسی گروپ یا کسی نام پر تنظیم کافون نمبر اور اکائونٹ نمبر ہوتا ہے جبکہ بستیوں سے گاڑیوں میں لائو ڈ اسپیکر لگاکر چند آدمی لوگوں سے امداد کی اپیل کرتے ہیں اور لوگ ثواب کی نیت سے ان کی امداد کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب تک بہت سے انکشافات ہوئے کہ کئی خود غرض افراد اپنا گھر آباد کرنے کیلئے دوسروں کو مہرا بنا کر لوگوں سے پیسے حاصل کرتے ہیں اور تحقیقات بعد وہ فراڈ ہی ثابت ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ امداد کرنا ہمارے لئے فرض عین ہے لیکن جو افراد قیمتی جان بچانے یا غریبوں کی امداد کرنے کیلئے لوگوں سے عطیات وصدقات طلب کرتے ہیں ان کے حوالے سے جانچ کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ گردوں یا کینسر یا دیگرمہلک امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج ومعالجہ پر حقیقتاً لاکھوں روپے صرف ہوجاتے ہیں اور جو واقعی غریب اور مفلوک الحال ہوتے ہیں ان کا دوسرے سے مانگنا حق بنتا ہے لیکن ان کی ہمدردی میں جو لوگ اپنا کمیشن تلاش کرتے ہیں ان کی نیت پر ہی جزا و سزا ہوگی ۔اس سلسلے میں انہوں نے ہرذی حس انسان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ امداد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں البتہ حقیقی ضرورت مند وںکے حوالے سے تحقیقات کرنے کے بعدان کی امداد کی جائے اور جو لاچاروں کے نام پر یا کوئی غیر ضروری بہانہ بنا کر لوگوں کو امداد کے نام لوٹ رہا ہوگا ۔اس کو پولیس کے حوالے کردیا جائے یا عوامی سطح پرسزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس طرح کی حرکت کرنے جرات نہ کرسکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ تنظیموںیاسوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کرنے والے ذمہ دا روں جوغریبوں،ناداروں ،یتیموں اوربیوائوں کے نام پرکا امداد کا مطالبہ کرتے ہیں کے بارے میں بھی بڑے پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہئے کہ کیا وہ حقیقت پر مبنی مہم چلارہے ہیں یا غیر تسلیم شدہ ہونے کی صورت میں لوگوں سے پیسے جمع کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو شخص یا تنظیم اس طرح اپیل کرے گا تو اس کیلئے جمع کرنے کے بعد حسابات عوام کے سامنے لانے اور مشتہر کرنے میں اپنا رول ادا کریں تاکہ کوئی دھوکہ نہ کھائے اور چند بہت آرگنائزیشنز اس وقت غریبوں اور ناداروں کی حقیقی معنوں میں امدادکرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں ۔ان کی معاونت کرنا صاحب ثروت افراد کیلئے لازمی بن جاتی ہے ۔