کولم چنار چشمے میں مچھلیوں کی پراسرار ہلاکت، عوام میں تشویش

جنوبی کشمیر میں مچھلیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری، پانی کے نمونے لینے کی اپیل

سرینگر// جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ڈورو علاقے میں واقع کولم چنار چشمے میں بڑی تعداد میں مچھلیوں کی پراسرار ہلاکت کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ قاضی گنڈ کے پنزتھ ناگ چشمے میں حال ہی میں پیش آئے اسی نوعیت کے واقعے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق کولم چنار چشمہ شفاف پانی کے لیے مشہور ہے اور شنکرپورہ، چک پاتھ اور کولم چنار دیہات کے تقریباً تین ہزار گھرانوں کو پینے کا پانی فراہم کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مچھلیوں کی اچانک ہلاکت کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ چونکہ ان علاقوں میں پینے کے پانی کا کوئی متبادل ذریعہ موجود نہیں، اس لیے لوگ بدستور اسی چشمے کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے صحت عامہ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔مقامی باشندوں نے محکمہ جل شکتی اور ویری ناگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر پانی کے نمونے جمع کرکے سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کریں تاکہ مچھلیوں کی ہلاکت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے اور عوام کے خدشات دور ہوں۔واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کشمیر کے مختلف آبی ذخائر، چشموں اور ندی نالوں میں مچھلیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ برنگی نالہ، پنزتھ ناگ، شیرباغ چشمہ اور ولر جھیل میں بھی ہزاروں مچھلیوں کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی ہے۔محکمہ ماہی پروری جموں و کشمیر کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان واقعات کی بڑی وجوہات پانی میں آکسیجن کی شدید کمی، بغیر صفائی کے گھریلو سیوریج کا اخراج، ڈٹرجنٹس کا بہاؤ اور آبی ذخائر میں بڑھتی ہوئی ٹھوس فضلہ آلودگی کو قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔