وزیر اعظم مودی نے بھارت کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی

وزیر اعظم مودی نے بھارت کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی

دنیا کی طاقتور ترین ہائیڈروجن ٹرین ’میک اِن انڈیا‘کی کامیابی ہے// وزیر اعظم نریندر مودی

سرینگر//وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ہریانہ کے جند ریلوے اسٹیشن سے بھارت کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت ان چند ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جہاں ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والی ٹرینیں باقاعدہ طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس پیش رفت کو بھارتی ریلوے میں صاف، ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق افتتاحی تقریب میں ریلوے وزیر اشونی ویشنو، ہریانہ کے گورنر اشیم کمار گھوش، وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے ٹرین کو روانہ کرتے ہوئے مسافروں اور تقریب میں شریک لوگوں کا ہاتھ ہلا کر خیر مقدم کیا، جبکہ ٹرین میں بڑی تعداد میں اسکولی بچے بھی سوار تھے۔یہ ٹرین جند اور سونی پت کے درمیان 89 کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً دو گھنٹے میں طے کرے گی اور راستے میں 12 درمیانی اسٹیشنوں پر رکے گی، جس سے اس روٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کو جدید اور ماحول دوست سفری سہولت میسر آئے گی۔بھارتی ریلوے کے مطابق یہ ٹرین مکمل طور پر ملک میں ڈیزائن، انجینئر اور تیار کی گئی ہے، جو مقامی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس کے ذریعے ہائیڈروجن کو بجلی میں تبدیل کرکے ٹرین کو چلایا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران صرف آبی بخارات خارج ہوتے ہیں، اس لیے اس ٹرین سے کاربن کا کوئی اخراج نہیں ہوتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینیں ڈیزل ٹرینوں کے مقابلے میں فضائی آلودگی اور شور میں نمایاں کمی لاتی ہیں، جبکہ انہیں روایتی برقی ٹرینوں کی طرح ہر جگہ اوور ہیڈ بجلی کے نظام کی ضرورت بھی نہیں ہوتی کیونکہ بجلی ٹرین کے اندر ہی فیول سیل کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ گرین ہائیڈروجن کے استعمال سے تھرمل پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی پر انحصار بھی کم ہوگا، جس سے ملک کے صاف توانائی کے اہداف کو تقویت ملے گی۔یو این ایس کے مطابق 10 کوچز پر مشتمل یہ ٹرین دنیا کی طویل ترین ہائیڈروجن سے چلنے والی مسافر ٹرینوں میں شمار کی جا رہی ہے، جبکہ اس کا 3200 ہارس پاور پروپلشن سسٹم اسے اس وقت آپریشنل ہائیڈروجن ٹرینوں میں سب سے طاقتور ٹرین سیٹس میں شامل کرتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ بھارتی ریلوے میں جدید، ماحول دوست اور پائیدار سفری نظام کے فروغ کی یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے ہریانہ کے جند میں بھارت کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرین میک اِن انڈیا مہم کی ایک بڑی کامیابی ہے اور جند سے سونی پت تک چلنے والی یہ ٹرین دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی ریلوے نے آج ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے اور یہ منصوبہ ملک کی تکنیکی صلاحیتوں اور خود انحصاری کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی مستقبل میں ہائیڈروجن ٹرین کا ذکر ہوگا تو جند، سونی پت اور ہریانہ کا نام ضرور لیا جائے گا۔مودی نے مغربی ایشیا کی موجودہ کشیدہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو بڑی مقدار میں پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور کھاد آبنائے ہرمز کے راستے حاصل ہوتی ہے، لیکن گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران یہ علاقہ مسلسل جنگی کشیدگی کا شکار رہا۔ اس کے باوجود ملک کی ریلوے خدمات اور ترقی کا سفر متاثر نہیں ہوا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایسی صورتحال 2014 سے پہلے پیدا ہوتی تو بھارتی ریلوے کا نظام بری طرح متاثر ہو جاتا، تاہم موجودہ حکومت نے ملک کو اس قابل بنایا ہے کہ بیرونی چیلنجز کے باوجود ترقی کا عمل جاری رہے۔وزیر اعظم نے جند کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس شہر سے ان کی پرانی یادیں وابستہ ہیں اور یہاں کے لوگوں کی محبت وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جند کا گھی اور گھیور آج بھی پہلے جیسا ہے، تاہم شہر کا انداز بدل چکا ہے اور یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اچھی حکمرانی کی ایک مثال بن رہا ہے۔اس موقع پر ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ آج کا دن بھارتی ریلوے کی تاریخ میں ایک تاریخی دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑا سنگ میل عبور کیا ہے، جو حکومت کے دور اندیش فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت سونی پت سے دہلی سیکشن پر ٹرین کی آزمائشی سروس جاری ہے، جس کے بعد اسے جند سے دہلی تک بھی چلایا جائے گا۔