ajeet daul

دہشت گردی کے خلاف دوہرا معیار ناقابل قبول// اجیت دوول

سرینگر// یو این ایس// بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ’’دوہرے معیار‘‘ کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک پر لازم ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ساتھ ان کی پشت پناہی، مالی معاونت اور سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی کریں۔یو این ایس کے مطابق اجیت دوول نے یہ بات روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو کے ساتھ ملاقات اور ماسکو میں منعقدہ ’’پہلے بین الاقوامی سیکورٹی فورم‘‘ اور ’’سلامتی امور کے اعلیٰ حکام کے چودھویں بین الاقوامی اجلاس‘‘ سے خطاب کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی آج بھی عالمی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے دنیا کو متحد اور واضح مؤقف اپنانا ہوگا۔ دوول نے کہا، ’’ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے۔ ذمہ دار ممالک کو واضح طور پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف، اور اسی کے مطابق عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔‘‘اجیت دوول نے کہا کہ بھارت خود طویل عرصے سے ’’ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی‘‘ کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے 22 اپریل 2025 کو جنوبی کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں 26 بے گناہ شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر الگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم ’’دی ریزسٹنس فرنٹ‘‘ (ٹی آر ایف) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ دوول کے مطابق بھارت نے اس حملے کے بعد جو کارروائی کی وہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کے اس مؤقف کے عین مطابق تھی جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد حملوں کے منصوبہ سازوں، مالی معاونت کرنے والوں، سہولت کاروں اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا، ’’اسی تناظر میں بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کئے۔‘‘یو این ایس کے مطابق اجیت دوول نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت نے 7 مئی 2025 کو ’’آپریشن سندور‘‘ شروع کیا جس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی میں لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین سے وابستہ نو بڑے ملی ٹنٹ مراکز تباہ کئے گئے جبکہ 100 سے زائد جنگجو مارے گئے۔قومی سلامتی کے مشیر نے عالمی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ’’ساختی جغرافیائی اور معاشی عدم استحکام‘‘ کے دور سے گزر رہی ہے جہاں مسلسل تنازعات، غیر یقینی صورتحال، تجارتی رکاوٹیں اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں عالمی نظام کو متاثر کر رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا، ’’دنیا اس وقت انتہائی مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں غیر یقینی اور غیر متوقع حالات غالب ہیں۔ ایسے ماحول میں بھارت اور روس کے درمیان دیرینہ تزویراتی شراکت داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔‘‘دوول نے کہا کہ دنیا اب کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں اب طاقت چند ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنی فوجی، اقتصادی اور آبادیاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’طاقت اب چند ہاتھوں میں مرتکز نہیں رہی۔ ابھرتے ہوئے ممالک عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مستحکم عالمی نظام کیلئے گلوبل ساؤتھ کو برابر کی نمائندگی اور شراکت دینا ناگزیر ہے۔اجیت دوول نے کہا کہ ماسکو میں منعقدہ سیکورٹی فورم، جس میں دنیا بھر کی حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے 140 سے زائد وفود شریک ہوئے، بدلتے ہوئے عالمی سیکورٹی چیلنجز پر سنجیدہ تبادلہ خیال کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فورم میں ہونے والی بات چیت عالمی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط کرے گی۔