rice

دھان کی کاشتکاری از خود ترک کرنے کا شاخسانہ

سالانہ500کروڈ روپے کا خسارہ بھی،روایت کا جنازہ بھی

سرینگر///وادی میں دھان کی کاشتکاری میں بیرون ریاستوں کے قریب 30ہزار مزدور اپنا پسینہ بہاکر 500کروڑ روپے کی رقم بیرون ریاستوں میں منتقل کرتے ہیں۔ وادی میں مقامی لوگوں کی کاشتکاری میں کم سنجیدگی اور طرز حیات میں تبدیلی کے نتیجے میں سینکڑوں کروڑ روپے کی رقم بیرون ریاستوں کے مزدوروں کو کاشتکاری کرنے کیلئے محنتانہ کے طور پر ادا کرنا پڑتا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں اگر چہ زرعی اراضی میں کمی آرہی ہے اور گزشتہ10برسوں کے دوران25ہزار ہیکٹر کی اراضی کم ہوگئی ہے اور زرعی مزدوروں میں بھی75فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی ہیں تاہم اس کے باوجود قریب500کروڑ روپے کی رقم صرف دھان کی کاشتکاری کے دوران ہی بیرون ریاستوں کے مزدور کماتے ہیں۔ محکمہ زراعت کے پاس موجود ریکارڈکے مطابق اس وقت کشمیر میںایک لاکھ30 ہزار ہیکٹر قریب(2کروڈ56 لاکھ98 ہزار420کنال) پر دھان کی کاشت ہوتی ہے۔ کاشتکاروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایک تہائی زمینداروں نے از خود کاشتکاری چھوڑ دی،جس کے نتیجے میں دھان کی پنیری لگانے اور فصل بونے سے لیکر فصل کاٹنے اور چھٹائی تک مزدوروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بیرون ریاستوں کے مزدور(اتر پردیش اور بہار)کاشتکاری میں ماہر مانے جاتے ہیں،اور بیشتر چھوٹے بڑے زمیندار ان ہی مزدوروں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے دھان کی کاشتکاری کرتے ہیں۔ پلوامہ کے قصبہ پاریگام سے تعلق رکھنے والے جاوید احمد کا کہنا ہے کہ بیرون ریاستوں کے مزدوروں نے فصل کی کاشتکاری،جیسے پنیری لگانے،فصل کا کاٹنے اور چھٹائی کا نرخ مقرر کیا ہے اور بیشتر کام ٹھیکوں پر لیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پنیری لگانے کیلئے یہ مزدور ایک ہزار روپے فی کنال کے علاوہ دوپہر کا کھانہ اور2وقت چائے کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فصل کی کٹائی کے وقت بھی کٹائی سے لیکر چھٹائی تک2ہزار روپے فی کنال کے حساب سے ان مزدوروں کو ادا کرنا پڑتا ہے،جبکہ اس کے علاوہ دوپہر کے کھانے اور دو وقت کی چائے پر بھی خرچہ آتا ہے۔ کولگام کے کھوکر ہامہ کے گوہر احمد نے بتایا کہ قریب3ہزار روپے کنال کا خرچہ آتا ہے،اور یہ بات بھی عیاں ہے کہ بیشتر چھوٹے بڑے کاشتکاروں نے زمیندار ای کرنی چھوڑ دی ہے۔ کپوارہ سے تعلق رکھنے والے طارق حمد نامی ایک کسان نے بتایا کہ ماضی کے برعکس اب بیشتر کاشتکاروں نے مزدوروں پر ہی انحصار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمسایہ،رشتہ داروں اور دوستوں کو جمع کرکے دھان کی کٹائی یا چھٹائی کی جاتی تھی،تاہم وہ روایت اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔طارق نے مزیز کہا کہ ہمسایہ اور رشتہ دار ایک دوسرے کو مدد بھی کرتے تھے،مگر یہ روایت بھی اب دم توڑ چکی ہے اور لوگ بیرون ریاستوں کے مزدوروں کو ہی کاشتکاری کیلئے استعمال کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کی مدد سے جہاں آپسی رشتے مظبوط بن جاتے تھے وہی رقم کی بھی بچت ہوتی تھی،جہاں لوگوں کی صحت بھی اچھی رہتی تھی وہی اپنا تمدن اور اپنی ثقافت بھی برقرا رہتی تھی۔ بارہمولہ کے گلزار احمد نامی کسان نے بتایا کہ نئی نسل کاشتکاری کرنے میں ہچکچاہٹ کر رہی ہے،جس کے نتیجے میں بیرون ریاستوں کے مزدوروں کیلئے فصل کے سیزن میں کشمیر دبئی ثابت ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیزن مین با ضابطہ طور پر یہ مزدور پرچیوں پر تاریخ اور وقت دیتے ہیں،جب یہ زمینداروں کے فصل کی کٹائی یا بوائی کرینگے،کیونکہ عدیم الفرست ہونے کے نتیجے میں انکی مانگ بڑ جاتی ہے۔گلزار کا کہنا تھا کہ اس دوران وہ من مانی قیمتیں بھی مقرر کرتے ہیں اور کچھ لوگ چور دروازے سے انہیں مزدوری کیلئے لانے میں اضافی رقومات بھی خرچ کرتے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ جدیدت کے ساتھ لوگوں کا طرز حیات بھی تبدیل ہوا اور لوگ اب ایک دوسرے پر انحصار کرنے کے بجاے مزدوروں سے ہی کام لیتے ہیں۔ ماہر زراعت ڈاکٹر فرحین جاوید کا کہنا ہے کہ ایک تہائی کسانوں کی جانب سے از خود زمینداری ترک کرنے کا مطلب ہے کہ بیرون ریاستوں کے مزدور ایک کروڑ72لاکھ کنال پر مزدوری کرتے ہیں اور فی کنال3ہزار روپے کے خرچے سے516کروڑ روپے سالانہ رقم کاشتکاروں کو ان مزدوروں کو بطور محنتانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔