سمارٹ سٹی پروجیکٹوں کے گرد نواح بازاروں کو مستثنیٰ رکھا جائے// اکنامک الائنس
سرینگر//کشمیر اکنامک الائنس نے کہا ہے کہ سمارٹ سٹی کی تعمیر کے دوران لالچوک اور اس کے نواحی علاقوں کے دکانداروں کو گزشتہ چار برسوں کے دوران شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ انہوں نے ہر ممکن حد تک انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔ الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ حالیہ دنوں میں محکمہ محنت و روزگار کی طرف سے دکانوں کو روٹیشن میں ہفتے میں ایک دن بند کرنے کے حکم نامے نے دکانداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔فاروق احمد ڈار نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لالچوک اور اس کے نواحی علاقوں کے دکانداروں کو 2سال کی مہلت دی جائے اور اس دوران ہفتہ وار تعطیل سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمارٹ سٹی لالچوک میں بیشتر ترقیاتی کام مکمل ہو چکے ہیں اور اس علاقے کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پولو ویو، گھنٹہ گھر اور دیگر مقامات مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، جو علاقے کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔فاروق احمد ڈار نے اپنے بیان میں کہا، ’’دکانداروں نے اسمارٹ سٹی منصوبے کے دوران بھرپور تعاون کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی محنت کا پھل انہیں ملے۔ لیکن ہفتہ وار تعطیل کی صورت میں ان کی کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی، جس سے نہ صرف ان کے کاروبار کو نقصان ہوگا بلکہ سیاحوں کو بھی سہولتیں فراہم نہیں کی جا سکیں گی۔انہوں نے مزید کہا، “سیاحتی مقامات پر ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا حجم بڑھ گیا ہے۔ اگر ہفتہ وار تعطیل کو لاگو کیا گیا تو اس سے کاروباری افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔‘‘فاروق احمد ڈار نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ دکانداروں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی موزوں متبادل حل فراہم کرے تاکہ علاقے کی معیشت اور سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو دکانداروں کی حالت زار سمجھنی چاہئے اور ان کے لئے ایسے فیصلے کرنے چاہئے جو ان کی معاشی حالت کو بہتر بنا سکیں۔










