سرینگر/// جنوبی کشمیر میں دریائے جہلم کا سنگم ہونے کے علاقے سے ہی ڈرینوں کا پانی دریائے جہلم میں ڈالا جاتا ہے جس کی وجہ سے جہلم کی خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے اور پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔اس سلسلے میں لوگوں نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ دریائے جہلم کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے اور پانی آلودگی سے بچانے کیلئے اقدامات اْٹھائے جائیں۔ وائس آف انڈیا کے نمائندے کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں چار درئویاں کا سنگم ہوتا ہے جن میں نالہ لدر، نالہ آر پتھ، نالہ ساندرن اور نالہ برنگی کھنہ بل میں ان کا سنگم ہوتا ہے جہاں سے اسے دریائے جہلم بن جاتا ہے۔تاہم وہاں سے ہی پشواڑہ ، نند پورہ، زڈی پورہ ، ناتھ پورہ، ڈگ پورہ، بٹنگو، بیجبہاڈاہ، سنگم وغیرہ کے علاقوں کی ڈرینوں کو اسی دریاء میں ڈالا جاتا ہے۔ جبکہ سنگم اننت ناگ ضلع ہیڈ کوارٹر سے ایک کلو میٹر دورواقع ہے اس کے باوجود بھی ڈرینوں سے نکاسی آب کیلئے کوئی موثر انتظام نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ دریائے جہلم کے شروع ہونے یعنی سنگم سے برابر چکوٹی بارہمولہ کے آخری پڑائو تک دریاء میں ہزاروں کی تعداد میں ناصاف پانی ڈالا جاتا ہے جبکہ کئی جگہوں پر جس میں پانپور، وغیرہ کے علاقہ جات قابل ذکر ہے میں دریائے جہلم کے کنارے گندگی و غلاظت کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔ اسکے علاوہ جہاں جہاں سے بھی دریائے جہلم کا گزر ہوتا ہے وہاں پر اس کی بے قدری کی جاتی ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق گھروں سے نکلنے والاکوڑا کرکٹ ، فضلہ اور گندہ پانی ڈرینوں اور پائیپوں کے ذریعے اسی دریاء کی نذر کیا جاتا ہے جس سے نہ صرف دریائے جہلم کی شان رفتہ تباہ ہورہی ہے بلکہ دریائے جہلم کا پانی بھی آلودہ ہوجاتاہے۔ انہوںنے بتایا کہ سرکاری سطح پر اگرچہ اقدامات اْٹھائے جاتے ہیں تاہم لوگ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو اس دریائکے ختم ہونے نشانی ہے۔ ادھر عوامی حلقوں نے اس تواریخی اور صدیوں سے بہنے والے دریاء کے تحفظ اور اس کی بحالی کیلئے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بارہمولہ سے لیکر سنگم اننت ناگ تک اس کے کناروں سے بہنے والے ڈرینوں کے پانی کو روکنے اور انہیں دوسری جگہوں سے نکاس کرنے کیلئے اقدامات اْٹھائے جائیں اس کے ساتھ ساتھ دریاء کے کنارے جس طرح سے سرینگر میں پبلک وارک کی تعمیر کی گئی ہے اسی طرح تمام علاقوں میں کیا جائے جہاں جہاں سے دریائے جہلم گزرتاہے اس سے یہ دریائے سیاحوں کیلئے بھی ایک دلچسپی کا مقام بن جائے گا۔










