خواتین اور بچوں کی طبی نگہداشت کیلئے مخصوص اسپتالMCCHاننت ناگ

لواحقین کاطبی عملے پرالزام،اسپتال کی انچارج ڈاکٹر تنزیلہ نے کی سختی سے تردید

اننت ناگ// خواتین اور بچوںکی طبی نگہداشت کیلئے مخصوص اسپتالMCCHاننت ناگ میں مبینہ طور پر ایک خاتون کی طبی لاپرواہی کی وجہ سے موت واقعہ ہونے کے بعداسکے لواحقین اور دیگر لوگوںنے سخت احتجاج کیا۔متوفی خاتون کے والد نے الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کی موت عملے کی طبی غفلت کے باعث ہوئی۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے کی رہنے والی ایک خاتون کی مبینہ طبی لاپرواہی کی وجہ سے MCCG اننت ناگ میں موت ہو گئی۔متوفی خاتون کے والد نے الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کی موت عملے کی طبی غفلت کے باعث ہوئی۔انہوںنے کہاکہ میری بیمار بیٹی کو ٹیسٹ کی خوراک دینا تھی لیکن طبی عملے نے اسے پورا انجکشن دیا جس کی وجہ سے اس کا رد عمل ہوا اور اس کی موت ہوگئی۔اُس نے الزام لگایا کہ ڈیوٹی پر موجود نرس نے ان کیساتھ بدتمیزی کی۔دریں اثنا، ایچ او ڈیMCCH اننت ناگ کی انچارج ڈاکٹر تنزیلہ نے مریضہ یعنی متوفی خاتوںکے اہل خانہ کے دعووں کی تردید کی اور کہا کہ یہ ان شاذ و نادر صورتوں میں سے ایک ہے کہ ٹیسٹ کی خوراک کے بعد مریض کا شدید ردعمل ہوتا ہے۔خاتون کے اہل خانہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کی موت وارڈ میں ہوئی اور اسے رسمی کارروائی کیلئے آپریشن تھیٹر لے جایا گیا اور دعویٰ کیا کہ دونوں نرسوں کو یہ بات کرتے ہوئے سنا ہے کہ خاتون کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ڈاکٹر تنزیلہ نے دعویٰ کیا کہ جب ہمارے ڈاکٹر نے رد عمل دیکھا اور خاتونقے کر رہی تھی تو ہمارے ڈاکٹر نے اسے فوری طور پر آپریشن تھیٹر میں منتقل کیا جہاں اس کی موت ہو گئی۔MCCHاننت ناگ ،جہاں جنوبی کشمیرکے چاروں اضلاع کے علاوہ بعض اوقات ضلع رام بن کی خواتین اور بچوںکوبھی علاج ومعالجہ کیلئے لایاجاتاہے ،مبینہ طور پر طبی عملے کی لاپرواہی کے باعث خواتین کی اموات کے کئی واقعات کے حوالے سے گزشتہ تین برسوںکے دوران کئی مرتبہ میڈیاکی شہ سرخیوںمیں رہاہے ۔مئی 2020 میں سیر سے ایک حاملہ خاتون کے خاندان کو خاتون کی لاش کو ٹرالی پر لے جانے پر مجبور کیا گیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔28 جولائی2021 کی صبح مشتعل شہریوں نے اسپتال کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دئیے اور سرکاری اسپتال کے اندر موجود املاک کی توڑ پھوڑ کی، جب ایک حاملہ خاتون (روزی جان، جو اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں گدھنز پورہ کی رہائشی تھی) مبینہ طور پر طبی لاپرواہی کی وجہ سے ہلاک ہوگئی۔6 دسمبر2021 کو، کشتواڑ کے ایک شخص کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ان کے مریض کی موت GMC اننت ناگ میں طبی لاپرواہی سے ہوئی۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے قصور ثابت ہونے پر ملزمان کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم، تحقیقات کی رپورٹ، اگر کوئی شروع کی گئی، کبھی منظر عام پر نہیں آئی۔27 اگست2021 کو، صبا بانو اہلیہ شہزاد احمد شاہ ساکنہ چوراتھ کولگام کے اہل خانہ نے بتایا کہ انکی مریضہ کی موت گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے ہوئی، تاہم جی ایم سی کے حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ 18 مئی2021 کو اننت ناگ قصبے سے تعلق رکھنے والے ایک اور مریض کے لواحقین نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ جی ایم سی اننت ناگ میں بدسلوکی کی گئی اور اسپتال میں لاپرواہی اور بدانتظامی کی وجہ سے ان کے مریض کی موت ہوگئی۔