مقامی آبادی نے او پی ڈی خدمات فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا
سری نگر//یواین ایس/ کشمیر کے مختلف علاقوں کے باشندوں نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) اونتی پورہ میں فوری طور پر بیرونی مریضوں کے شعبے (او پی ڈی) کی خدمات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگست 2026 تک او پی ڈی خدمات شروع کرنے کی حکومت کی جانب سے دی گئی مدت گزر چکی ہے، لیکن ادارہ اب تک مریضوں کے لیے فعال نہیں ہو سکا ہے۔مقامی باشندوں نے اس معاملے میں مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کو فعال بنانے کے عمل میں تیزی لائی جائے اور اس سلسلے میں واضح اور مقررہ مدت کا اعلان کیا جائے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بار بار مقررہ تاریخوں میں توسیع اور تاخیر سے لوگوں میں شدید مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ انہیں امید تھی کہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کے فعال ہونے سے کشمیر میں جدید اور کم خرچ طبی سہولیات دستیاب ہوں گی اور سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے مریضوں کو جموں و کشمیر سے باہر جانے کی ضرورت کم پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پہلے بتایا گیا تھا کہ او پی ڈی خدمات اگست 2026 تک شروع کردی جائیں گی، جبکہ ایم بی بی ایس کورس بھی رواں سال جولائی سے شروع ہونے کی توقع تھی۔ تاہم اگست کی مقررہ مدت گزرنے کے باوجود مریضوں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ادارے میں طبی خدمات عملی طور پر کب شروع ہوں گی۔مقامی باشندوں نے جموں و کشمیر میں 2019 میں منظور کیے گئے دونوں اے آئی آئی ایم ایس منصوبوں کی رفتار میں فرق پر بھی سوال اٹھایا۔ ان میں ایک ادارہ وجے پور، جموں اور دوسرا اونتی پورہ، جنوبی کشمیر میں قائم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں منصوبوں کو ایک ہی وقت میں منظوری ملی تھی، لیکن اے آئی آئی ایم ایس جموں گزشتہ دو برس سے کام کر رہا ہے، جبکہ کشمیر کے لوگ ابھی تک اونتی پورہ میں بنیادی او پی ڈی خدمات کے بھی منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے ساتھ اس طرح کا امتیازی رویہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے، اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک عمارت یا بنیادی ڈھانچے کا نہیں بلکہ کشمیر میں لاکھوں لوگوں کو خصوصی اور معیاری طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق کینسر، دل، اعصابی اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے جموں و کشمیر سے باہر علاج کے لیے جانا آسان نہیں۔ سفر، رہائش اور علاج کے اخراجات پہلے ہی مشکلات سے دوچار خاندانوں پر مزید مالی بوجھ ڈالتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے کے جو حصے تیار ہوچکے ہیں، ان میں کم از کم او پی ڈی خدمات فوری طور پر شروع کی جائیں اور ہر شعبے کی تکمیل کا انتظار کرتے ہوئے طبی سہولیات کو غیر معینہ مدت تک مؤخر نہ کیا جائے۔مقامی باشندوں نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کو فعال بنانے کے حوالے سے مقررہ مدت کے ساتھ پیش رفت رپورٹ طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر انتظامیہ اور مرکزی وزارت صحت سے بھی اپیل کی کہ او پی ڈی، داخل مریضوں اور ہنگامی طبی خدمات شروع کرنے کے لیے واضح ٹائم لائن عوام کے سامنے رکھی جائے۔اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ منصوبے کو تقریباً ایک ہزار 828 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے منظوری دی گئی تھی۔ منصوبے کے تحت تقریباً 57 عمارتیں تعمیر کی جانی ہیں۔ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ادارے میں تقریباً ایک ہزار بستروں کی گنجائش ہوگی، جن میں 300 سپر اسپیشلٹی بستر شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ میڈیکل کالج میں ہر سال 100 ایم بی بی ایس طلبہ اور نرسنگ کالج میں 60 طلبہ کے داخلے کی گنجائش متوقع ہے۔منصوبہ ابتدائی طور پر جنوری 2025 تک مکمل ہونے کی توقع تھی، جس کے بعد تکمیل کی مدت نومبر 2025 تک بڑھائی گئی۔ تاہم زمین سے متعلق عدالتی معاملات، دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد عائد پابندیوں، کورونا وبا، قریبی فوجی تنصیب سے متعلق مسائل، خراب موسمی حالات اور مزدوروں کی کمی سمیت مختلف وجوہات کے باعث منصوبے میں مزید تاخیر ہوتی رہی۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ کے فعال ہونے سے صرف پلوامہ اور جنوبی کشمیر کے ملحقہ اضلاع ہی نہیں بلکہ پوری وادی کشمیر کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا، خاص طور پر ایسے مریضوں کو جنہیں خصوصی اور پیچیدہ طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں اور اب مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ مرکزی وزارت صحت کو فوری مداخلت کرتے ہوئے اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ میں کم از کم او پی ڈی خدمات بلا تاخیر شروع کرانی چاہئیں۔










