امریکہ کی جانب سے ملازمت ختم ہونے کے بعد ملنے والی 60 روزہ ‘گریس پیریڈ’ (مہلت) کو ختم کرنے کی تجویز

واشنگٹن: امریکہ نے جمعرات، 10 ستمبر کو ایک نئے اصول کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئی ملازمت تلاش کرنے کے لیے مخصوص غیر ملکی کارکنوں (بشمول ایچ۔ ا بی ویزا ہولڈر ہنرمند کارکن) کو ملنے والی 60 روزہ مہلت (گریس پیریڈ) کو ختم کر دیا جائے گا۔ اس اقدام سے ٹیک کمپنیوں اور دیگر اداروں میں ایچ۔ ا بی ویزا پر کام کرنے والے ہندوستانی ٹیکنالوجی ورکرز نمایاں طور پر متاثر ہوں گے۔ ایچ۔ ا بی ویزا ایک ‘نان امیگرنٹ’ ویزا ہے جو امریکی کمپنیوں کو ایسے خصوصی پیشوں میں غیر ملکی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے جن کے لیے نظریاتی یا تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں ہر سال ہندوستان اور چین جیسے ممالک سے ہزاروں ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اس ویزے پر انحصار کرتی ہیں۔
“اختیاری 60 روزہ مہلت کا خاتمہ” کے عنوان سے یہ نیا اصول جمعہ کو ‘فیڈرل رجسٹر’ میں شائع کیا جائے گا، اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے عوام سے اگلے 60 دنوں کے اندر اس پر رائے طلب کی ہے۔ اگر اس اصول کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے، تو ویزا کی مدت ختم ہونے سے پہلے ملازمت سے محروم ہونے والے غیر ملکی کارکنوں کو فوری طور پر امریکہ چھوڑنا پڑے گا، الا یہ کہ ان کے پاس یہاں قیام کرنے کی کوئی علیحدہ اجازت موجود ہو۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے کہا کہ “یہ تجویز غیر ملکی شہری کی ‘نان امیگرنٹ’ حیثیت اور اس مخصوص ملازمت یا سرگرمی کے درمیان براہِ راست تعلق کو بحال کرتی ہے جو امریکہ میں ان کے داخلے یا حیثیت کے حصول کی بنیاد بنی تھی، اور اس سے انتظامی بوجھ میں بھی کمی آتی ہے۔”
اس تجویز کے تحت،ڈی ایچ ایس اس اختیاری اور زیادہ سے زیادہ 60 روزہ مہلت کو ختم کر دے گا جو فی الحال ای-1، ای-2،ای-3، ایچ۔ ا بی، ایچ۔ ا بی1، ایل-1، او-1 اور ٹی این زمروں کے ‘نان امیگرنٹس’ اور ان کے زیر کفالت افراد کو دی جاتی ہے جن کی ملازمت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ مہلت اوباما دور کے ضوابط کے تحت شامل کی گئی تھی تاکہ کارکنوں کو نئی ملازمت کی پیشکشوں پر غور کرنے کے لیے امریکہ میں قیام کرنے کی اجازت دے کر آجر (ملازم) کی تبدیلی کو آسان بنایا جا سکے۔ ایک امیگریشن اٹارنی فرم، نے کہا کہ اپنی تجویز میں، ڈی ایچ ایس تسلیم کرتا ہے کہ اگر رعایتی مدت کے ضابطے کو ختم کر دیا جاتا ہے، تو کچھ متاثرہ غیر ملکی شہریوں کو نوٹسز ٹو اپیئر (این ٹی اے) جاری کیے جا سکتے ہیں، جو کہ ملک بدری کی کارروائی شروع کرنے میں حکومت کا پہلا قدم ہے۔
این ٹی اے جاری کرنے کا امکان نان امیگرنٹ زمرہ جات کے ان لوگوں کے لیے زیادہ ممکن ہو سکتا ہے جن کے لیے ایک آجر کو حکومت کو فوری طور پر مطلع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب غیر ملکی شہری کی ملازمت بند ہو جاتی ہے، بشمول ایچ۔ ا بی، او-1، اور پی۔ ڈی ایچ ایس نے 2016 میں 60 دن تک کی رعایتی مدت کا قاعدہ بنایا جس کا مقصد اعلی ہنر مند کارکنوں کے لیے ملازمت کی نقل و حرکت، استحکام اور لچک کو بڑھانا، اور امریکی آجروں کے لیے غیر تارکین وطن کے ہنر کی خدمات حاصل کرنا اور ان کی منتقلی کو آسان بنانا ہے۔ اس سہولت نے متاثرہ افراد کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ امریکہ چھوڑے بغیر یا وہاں سے روانگی کی تیاری کیے بغیر، اسی ‘نان امیگرنٹ’ (غیر تارکینِ وطن) زمرے میں کوئی اور ملازمت تلاش کر سکیں یا اپنی حیثیت (اسٹیٹس) تبدیل کر سکیں۔ یہ رعایتی مدت (گریس پیریڈ) اس صورت میں بھی لاگو ہوتی ہے جب ملازمت کا خاتمہ رضاکارانہ ہو یا غیر رضاکارانہ۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے تخمینوں کے مطابق، 2025 میں ایسے بنیادی مستفیدین کی تعداد 65,752 ہے جن کی ملازمت ختم ہوئی یا جنہوں نے رضاکارانہ طور پر آجر (ملازم) تبدیل کیا؛ اس کے مقابلے میں مالی سال 2023 میں یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 80,034 اور مالی سال 2021 میں کم سے کم 40,959 تھی۔مالی سال 2021 سے 2025 کے دوران، ملازمت سے محروم ہونے والے یا آجر تبدیل کرنے والے 328,758 بنیادی مستفیدین میں سے 5.77 فیصد کے لیے کسی نئے آجر کی جانب سے ‘نان امیگرنٹ ورکرز’ کے لیے نئی درخواست جمع کرائی گئی۔اگر اس تجویز کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے، تو ملازمت سے محروم ہونے والے کارکنوں کو ملک چھوڑنا پڑے گا اور کسی دوسرے امریکی آجر کی جانب سے پیشکش (آفر) موصول ہونے کے بعد امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے میں دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔امریکی قانون کے تحت سالانہ 65,000 ایچ۔ ا بی ویزے جاری کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ مزید 20,000 ویزے ان افراد کے لیے مخصوص ہیں جنہوں نے امریکی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے اعلیٰ ڈگریاں حاصل کی ہوں۔جنوری 2025 میں دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے قانونی نقل مکانی کو محدود کرنے کی جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تازہ ترین اقدام ہے۔