اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی 25 ویں برسی کے موقع پر دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی میں تبدیلی پر زور دیا۔ یو این ایس سی نے کہا کہ دہشت گردی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈرون اور سیٹلائٹ جیسی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ممالک کو اپنے سیکورٹی اقدامات کو جدید بنانا ہوگا۔ سلامتی کونسل نے جمعہ کے روز متفقہ طور پر منظور کیے گئے ایک پریس بیان میں کہا کہ ’’سلامتی کونسل دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے اپنے عزم کو دہراتی ہے، جو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔‘‘ کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی بھی اسی کے مطابق تیار کرنی ہوگی۔ دہشت گرد اب مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈرون، سیٹلائٹ، سوشل میڈیا اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر عالمی نظام تیار کرنا ضروری ہے۔ فرانس کی پہل پر منعقدہ یہ اجلاس 2001 میں القاعدہ کی جانب سے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کی یاد میں بلایا گیا تھا۔ اس دوران عالمی طاقتوں کی کشمکش کے سبب اکثر تقسیم رہنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دہشت گردی کے معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ سلامتی کونسل کے تمام 15 رکن ممالک کے نمائندوں نے امریکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ ان حملوں میں سب سے بڑا حملہ نیویارک کے مین ہٹن میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز پر ہوا تھا، جس میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل نمائندے مائیک والش نے کہا کہ سلامتی کونسل میں شامل ہر ملک کسی نہ کسی شکل میں دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جس کونسل میں اکثر تقریباً ہر معاملے پر اختلافات دیکھنے کو ملتے ہیں، وہاں دہشت گردی کی مذمت ان چند معاملات میں شامل ہے، جن پر ہم سب ایک ساتھ اور متفقہ طور پر کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی آج بھی عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ امریکی فوج کی خصوصی گرین بیریٹ یونٹ میں افغانستان میں خدمات انجام دے چکے والش نے کہا کہ 9/11 حملوں کے بعد سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد دہشت گردانہ واقعات میں مارے گئے، زخمی ہوئے، بے گھر ہوئے، دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کیے گئے یا پھر دہشت گردی کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ سلامتی کونسل کے صدر جیروم بونافونٹ نے اجلاس میں کہا کہ دہشت گرد گروپ نئی ٹیکنالوجی اور جدید مالیاتی نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گرد ہماری ہی تکنیکی کامیابیوں کو ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جس سے عالمی سیکورٹی چیلنجز مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ اجلاس سے قبل سلامتی کونسل کے ارکان نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی یادگار پر بھی گئے، جہاں سیاہ گرینائٹ پر درج حملوں کے متاثرین کے ناموں کے درمیان بنے یادگاری حوض کے سامنے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس دوران برکس اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں کو انسانیت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے پوری دنیا پر مستقل اثر چھوڑا ہے۔ گوتریس نے کہا کہ جب ہم متاثرین کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، تب ہمیں دہشت گردی سے پاک مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنے مشترکہ عزم کو بھی دہرانا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی یکجہتی اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔










