25نومبر تک موسمی صورتحال میںتبدیلی کا کوئی امکان نہیں ، سردیوں میں مزید اضافہ کا امکان / محکمہ موسمیات
سرینگر// وادی کشمیر اور لداخ میں شدید سردیوں میں کمی آنے کا فی الحال کوئی آثار نہیں ہے کیونکہ محکمہ موسمیات نے 26نومبر تک خشک کوموسم کی پیشگوئی کی ہے ۔ ادھر منفی 0.8 ڈگری سیلشس کے ساتھ سرینگر میں رواں موسم کی پہلی سرد ترین رات درج ہوئی ہے ۔ اسی دوران صبح کے اوقات گہری دھند کے ساتھ وادی کشمیر شدید ترین سردی کی لپیٹ میں آچکی ہے اور صبح سڑکوں پر گاڑیوں کو چلنے کیلئے لائٹس کا استعمال کرنا پڑا ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق رواں ماہ کے ابتدائی دنوں سے وادی میں شدت کی سردی جاری ہے۔ سرینگر اور دیگر قصبہ جات میں موسم خشک رہا اور دن میں ہلکی دھوپ نکلنے کے باعث شبانہ سردیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں منفی 0.8ڈگری کے ساتھ رواں موسم میں اب تک سرد ترین رات درج کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر شدید ٹھنڈ کی لپیٹ میں آچکی ہے جبکہ خشک موسم رہنے کے باعث سردیوں میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں تقریباً 2 ڈگری سینٹی گریڈ کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ رات 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے منفی 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ شہر کے بیشتر حصوں میں بھی دھند کی ایک گھنی چادر چھائی ہوئی تھی اور صبح کے وقت مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔شبانہ درجہ حرارت کے بارے میں محکمہ موسمیات نے بتایا کہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ مشہور سیاحتی مرکز پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو کہ معمول سے 1 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کوکرناگ میں کم از کم درجہ حرارت 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ کپوارہ قصبے میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 1. ڈگری سینٹی گریڈ کم تھا۔اس طرح سے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ شہرہ آفاق گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جموں میں کم سے کم درجہ حرارت 12.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو اس جگہ کے لیے معمول تھا۔ خیال رہے کہ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیشگوئی کی ہے کہ 25نومبر تک خشک موسم کی پیشگوئی کی ہے اور کہا کہ سردیوں میں مزید اضافہ کا امکان ہے ۔ ادھر وادی کشمیر میں شدید سردیوں کے نتیجے میں عام لوگوں کے علاوہ بچوں اور ضعیف العمر افراد کو گھروں سے باہر نکلنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ چھوٹے بچے اور بزرگ سردی کی شدت کی وجہ سے اپنے ہی گھروں میں مقید ہوکے رہ گئی جبکہ بزرگوں کو سردی کی وجہ سے ہڑیوں اور جوڑوں میں درد میں اضافہ ہوا ہے ۔خیال رہے کہ وادی کشمیر میں چلہ کلان کی آمد سے قبل ہی شدید سردی کے لہر کے باعث اہلیان وادی کو کافی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ رات کے دوران درجہ حرارت منفی ریکارڈ ہونے کے باعث لوگ شدید ٹھنڈ کے چلتے بہت سارے پریشانیوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔










