عرضی پر دلائل اورسماعت مکمل ،جموں وکشمیرکی عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کر لیا
سری نگر//جموں و کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ نے حیدرپورہ انکائونٹر کے دوران مارے گئے ایک مبینہ جنگجونوجوان محمد عامرماگرے کی میت لواحقین کو سونپے جانے کی عرضی پرسماعت مکمل کرتے ہوئے اپنافیصلہ محفوظ کرلیا۔عدالت عالیہ نے جمعرات کو محمد عامر ماگرے کے والدمحمدلطیف ماگرے کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا، جو گزشتہ سال15 نومبر کو حیدر پورہ انکاؤنٹر میں مارے گئے4 افراد میں سے ایک تھا۔ جے کے این ایس کے مطابق جسٹس سنجیو کمار کی بنچ نے عامر کے والد محمد لطیف ماگرے کو ان کی وکیل دیپیکا سنگھ راجاوت، وزارت داخلہ حکومت ہند کے ذریعے اس کے اے ایس جی آئی ٹی ایم شمسی کے ذریعے اور جموں و کشمیر حکومت کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل آصفہ پڈرو کے ذریعے دئیے گئے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ یاد رہے کہ رواں برس12جنوری کو، عدالت عالیہ نے مرکزی وزارت داخلہ اور جموں و کشمیر حکومت کو ایڈوکیٹ راجاوت کی عرضیوں کے بعد جواب دینے کیلئے نوٹس جاری کیا تھا کہ مہلوک نوجوان کی لاش کے حوالے کرنے میں تاخیر سے خاندان کے افراد کو ذہنی طور پر صدمہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر طبی طور پر بھی ممکن نہیں تھی۔ اس کے بعد، جموں و کشمیر حکومت نے عرضی پر اعتراضات داخل کئے اور مرکزی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ کے سامنے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے دائر کردہ اعتراضات کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ درخواست گزار محمدلطیف ماگرے نے 7 دسمبر 2021 کو لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی تھی تاکہ بیٹے کی لاش کی واپسی اور مجسٹریل تحقیقات کو پبلک کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا سکے۔ 18 نومبر کو2دیگرمہلوکین، عمارت کے مالک اور ایک ڈاکٹر(جس کیساتھ عامر ایک دفتری چپراسی کے طور پر کام کر رہا تھا) کی لاشوں کی واپسی کا حوالہ دیتے ہوئے ، درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ وہ مرکزی وزارت داخلہ، جموں و کشمیر حکومت اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو اس کی لاش اہل خانہ کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کرے۔ درخواست گزار نے آئین کے دفعہ 21 کو استعمال کرنے کی استدعا کی۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ عامر کمزور خاندانی پس منظر اور مالی مسائل کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکا،اسلئے وہ کشمیر میں اپنی بہن کے پاس گیا تھا جس نے اسے ڈاکٹر مدثر کے کلینک میں نوکری دلانے میں مدد کی تھی اور وہ پچھلے کچھ مہینوں سے وہاں کام کر رہا تھا۔درخواست گزارمحمد لطیف ماگرے اور اس کی اہلیہ نے استدعا کی تھی کہ وہ عامر کو مذہبی روایات کے مطابق باعزت تدفین کے بنیادی حق کے لئے عدالت کی مداخلت چاہتے ہیں۔ اُْنہوں نے درخواست کی کہ عامر کی لاش کو جلد از جلد نکالا جائے تاکہ وہ اپنے بیٹے کو گھر کے قریب دفن کر سکیں۔مرکزی وزارت داخلہ اور جموں و کشمیر حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے عدالت عالیہ کے سامنے دلیل دی کہ اب لاش کی کھدائی کا کوئی مقصد نہیں ہوگا کیونکہ یہ اب تک گل چکی ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ متوفی کو وقف کے اراکین اور مذہبی مبلغ کی طرف سے مذہبی رسومات اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد پہلے ہی باوقار تدفین کر دی گئی تھی۔ وکیل نے استدلال کیا کہ وہ دستاویزات جو اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ تدفین مذہبی ذمہ داریوں کے ساتھ کی گئی تھی،عدالت کے سامنے سیل بند کور میں ریکارڈ پر رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے ظاہرکئے گئے امن و امان کے خدشات کے حوالے سے قابل اعتماد معلومات بھی عدالت کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ لاش کی کھدائی موجودہ حالات میں ناپسندیدہ مثال بن سکتی ہے۔










