ویری ناگ اور ڈورو کو پانی کی فراہمی یکساں طور پر یقینی بنائیں: جی اے میر

حکومت نے کانی شال بُننے والوں کو بے آسرا چھوڑ دیاہے: غلام احمد میر

سرینگر//پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے کہاہے کہ حکومت نے پشمینہ کانی شال کاریگروں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کے این ایس کے مطابق غلام احمد میر نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے کاندھوں پر جب پشمینہ شال ہوتا ہے تو وہ خوشی محسوس کرتے ہیں تاہم وہ اس کی اہمیت، وجود اور اس کے بنانے والے بنکروںو دستکاری کے بارے میں متفکر نہیں ہیں۔ انہوںنے کشمیری بنکروں کی حالت زار پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پشمینہ کانی شالوں کو برآمد کرنا متاثر ہوا ہے جس کے نتیجہ میں بنکر زندہ رہنے اور کنبوں کی کفالت کرنے کیلئے متبادل راستے ڈھونڈنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ غلام احمد میر نے کہاکہ 10گھنٹوں تک کام کرنے کے باوجود کاریگر صرف 250روپے کماتا ہے جس کے سبب وہ اس صدیوں پرانی دستکاری کو ترک کرنیکیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پشمینہ دستکاری کے تئیں حکومت کی عدم توجہی کے باعث اہمیت کی حامل یہ دستکاری زوال پذیر ہورہی ہے۔ غلام احمد میر نے کہاکہ کانیہامہ میں پشمیہ شال بننے کی فیکٹری گزشتہ18مہینوں سے بند ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت اسے بحال کرنے میں کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوںنے پشمینہ شال کی بحالی کیلئے مرکزی اور لیفٹننٹ گورنر انتظامیہ سے مداخلت کرنے کی مانگ کی ہے۔ انہوںنے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پشمینہ بنکروں اور صدیوں پرانی اس دستکاری کو زندہ رکھنے کیلئے مالی مدد دینے پر زور دیا۔ انہوںنے اس بات پر تعجب کااظہار کیا کہ وزراء، افسرشاہوں اور دنیا کے مختلف حصوںمیں کانی شالوں کوبطور تحفہ دیا جاتا تھا لیکن کسی میں بھی اس بات کا ادراک نہیں کہ اس دستکاری کو زندہ رکھا جائے۔ انہوںنے کہاکہ ’’میں مرکزی حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ بنکروں کو مناسب مالی مدد اور اہمیت کی حامل اس دستکاری کو زندہ رکھنے کیلئے موثر اقدامات کرے جو قلیل رقم کے بدلے اپنی عرق ریزی سے پشمینہ شال بنتے ہیں۔