حضرت شاہِ ہمدانؒ کا عرس، کشمیر کی روحانی اور معاشی شناخت کا مظہر/ کشمیر اکنامک الائنس

حضرت شاہِ ہمدانؒ کا عرس، کشمیر کی روحانی اور معاشی شناخت کا مظہر/ کشمیر اکنامک الائنس

سرینگر// حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کے سالانہ عرس مبارک کے موقع پر کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے وادی کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت شاہ ہمدانؒ کی تعلیمات آج بھی کشمیر کی روحانی، معاشی اور سماجی ترقی کا محور ہیں۔فاروق ڈار نے اپنے پیغام میں کہا کہ حضرت شاہ ہمدانؒنے وادی کشمیر میں صرف دینِ اسلام کی روشنی ہی نہیں پھیلائی بلکہ یہاں کے سماجی، ثقافتی اور معاشی ڈھانچے کو بھی نئی بنیادیں فراہم کیں۔ انہوں نے کہا”قالین بافی، دستکاری، تجارت، اور دیگر ہنری شعبے جو آج بھی کشمیری معیشت کی پہچان ہیں، حضرت شاہ ہمدانؒ کی انقلابی بصیرت کا نتیجہ ہیں،”۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین نے کہا کہ آج کے دور میں ہمیں حضرت شاہ ہمدانؒ کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے، تاکہ ہم ایمانداری، خدمت خلق اور عدل و انصاف جیسے اصولوں کو فروغ دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اکنامک الائنس حضرت شاہ ہمدانؒکے افکار کو ایک معاشی ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے، جو خودانحصاری، حلال تجارت اور سماجی مساوات پر مبنی ہے۔ فاروق ڈار نے اپنے پیغام میں کہا”ہم دعا گو ہیں کہ یہ عرس مبارک کشمیری عوام کے لیے امن، بھائی چارے، خوشحالی اور ترقی کا پیغام لے کر آئے،”انہوں نے کہا حضرت شاہ ہمدانؒ، جنہیں کشمیر میں “بانیِ اسلام” کے طور پر جانا جاتا ہے، کی خدمات کو وادی میں ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں