حج بیت اللہ 2022::مناسک حج کا آغاز ہوگیا

سری نگر//مناسک حج کا آغازبدھ سے ہوگیا،سال 2020اور2021میں کورونا وائرس کی وجہ سے بیرون ممالک سے عازمین کی سعودی عرب آمد پر پابندی عائدرہنے کے بعد امسال10لاکھ عازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے جن میں ساڑھے8 لاکھ غیرملکی عازمین شامل ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے تمام عازمین حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔45 ہزار عازمین کو مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ منتقل کردیاگیاہے۔عازمین، حج کے بقیہ ایام مکہ مکرمہ میں گزاریں گے، دوران حج مسجد الحرام کو دن میں 10 بار دھویا جائے گا اور ہربارایک لاکھ30 ہزار لیٹر جراثیم کش محلول بھی استعمال کیاجائے گا۔سعودی عرب کی حج سیکوررٹی فورس نے کہاہے کہ حج کے پیش نظر امن و سلامتی کے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ (منی، مزدلفہ اور عرفات) اور حج مقامات کی طرف جانے والی شاہراہوں پرامن و امان کو برقرار رکھنے کے انتظامات کرلئے گئے ہیں۔یادرہے فریضہ حج اسلام کے5بنیادی ارکان میں سب سے آخری رکن ہے، جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے’’اسلام کی بنیاد5 ستونوں پر ہے، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا‘‘۔ مناسک حج کی ابتداء ہر سال8 ذوالحجہ بمطابق ہجری سال سے ہوتی ہے، حجاج کرام متعین میقات حج سے احرام باندھ کر خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے روانہ ہوتے ہیں، وہاں پہنچ کر طواف قدوم کرتے ہیں، پھر منیٰ روانہ ہوتے ہیں اور وہاں یوم الترویہ گزار کر عرفات آتے ہیں اور یہاں ایک دن کا وقوف ہوتا ہے، اسی دن کو یوم عرفہ، یوم سعی، عید قربانی، یوم حلق و قصر وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد حجاج رمی جمار (کنکریاں پھینکنے) کے لئے جمرہ عقبہ جاتے ہیں، بعد ازاں مکہ مکرمہ واپس آکر طواف افاضہ کرتے ہیں اور پھر واپس منی جاکر ایام تشریق گذارتے ہیں۔ اس کے بعد حجاج کرام دوبارہ مکہ مکرمہ واپس آکر طواف وداع کرتے ہیں اور یوں حج کے جملہ مناسک مکمل ہوتے ہیں۔فرضیت حج کی5 شرائط ہیں: پہلی شرط مسلمان ہونا، غیر مسلموں پر حج فرض نہیں اور نہ ہی ان کے لیے مناسک حج ادا کرنا جائز ہے۔دوسری شرط عقل ہے، پاگل مجنون پر حج فرض نہیں۔ تیسری شرط بلوغ ہے، نابالغ بچے پر حج فرض نہیں۔ چوتھی شرط آزادی ہے، غلام و باندی پر حج فرض نہیں۔پانچویں شرط استطاعت ہے، استطاعت کا مفہوم یہ ہے کہ حج محض ان افراد پر فرض ہے جو اس کی جسمانی و مالی استطاعت رکھتے ہوں (عورت ہے تو شرعی محرم بھی لازم ہے)