کھیت، سبزیاں اور سیب کے باغات نشانے پر، کسانوں میں بے چینی
سرینگر// کشمیر میں جنگلی سوروں کی بڑھتی موجودگی کسانوں اور باغ مالکان کیلئے ایک نئے اور سنگین مسئلے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ شمالی، وسطی اور جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ جانور رات کے وقت کھیتوں، سبزیوں کی فصلوں اور باغات میں داخل ہو کر بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہے ہیں، جس سے دیہی معیشت اور زرعی سرگرمیاں متاثر ہونے لگی ہیں۔یو این ایس کے مطابق کسانوں کا کہنا ہے کہ جنگلی سوروں کے جھنڈ رات کی تاریکی میں فصلوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور چند گھنٹوں کے اندر مہینوں کی محنت برباد کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر شمالی کشمیر کے پٹن، رفیع آباد، اْڑی اور بانڈی پورہ کے کئی علاقوں میں کسانوں نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کی شکایت کی ہے۔پٹن کے ایک متاثرہ کسان نے بتایا کہ صبح جب وہ اپنے کھیت میں پہنچا تو زمین کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کے مطابق ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی بھاری مشین نے پوری زمین کو کھود ڈالا ہو۔ مٹر اور دیگر سبزیوں کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی جبکہ زمین پر جنگلی سوروں کے واضح نشانات موجود تھے۔وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں بھی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ مقامی باغ مالکان کے مطابق جنگلی سور صرف سبزیوں اور اناج کی فصلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب نوجوان سیب کے درختوں کی جڑوں اور چھال کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، جس سے باغبانی کے شعبے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔نوبی کشمیر کے پانپور اور ترال علاقوں سے بھی فصلوں کی تباہی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں ترال قصبے میں ایک جنگلی سور کے داخل ہونے سے خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور اس کے حملے میں چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس واقعے نے دیہی آبادی میں تحفظ کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔یو این ایس کے مطابق ماہرینِ جنگلی حیات کے مطابق جنگلی سور کشمیر کیلئے کوئی نئی نوع نہیں ہیں۔ تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ڈوگرہ دور حکومت میں شکار کے مقاصد کیلئے وادی میں متعارف کرایا گیا تھا۔ تاہم 1980 کی دہائی کے بعد ان کی تعداد میں نمایاں کمی آئی اور کئی علاقوں میں انہیں تقریباً ناپید تصور کیا جانے لگا تھا۔گزشتہ چند برسوں کے دوران شمالی کشمیر کے جنگلاتی علاقوں میں ان کی دوبارہ موجودگی سامنے آئی، جبکہ اب ان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، جنگلاتی ماحول میں تبدیلی، خوراک کی دستیابی اور مختلف جنگلاتی راہداریوں کے ذریعے نقل و حرکت ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلی سوروں کی افزائش نسل بھی کافی تیز ہوتی ہے کیونکہ ایک مادہ سور بیک وقت کئی بچوں کو جنم دیتی ہے، جس کے باعث ان کی آبادی مختصر عرصے میں نمایاں حد تک بڑھ سکتی ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ جنگلی سوروں کی بڑھتی تعداد داچھی گام سمیت بعض حساس جنگلاتی علاقوں کے حیاتیاتی توازن کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ جانور نایاب ہنگل ہرن کے بچوں اور ان کی خوراک کے وسائل پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ محکمہ وائلڈ لائف نے کسانوں کو اجتماعی نگرانی، رات کے اوقات میں پہرہ دینے، شور پیدا کرنے والے آلات استعمال کرنے اور دیگر روایتی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، تاہم متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مسئلے کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔کسانوں اور باغ مالکان نے حکومت اور محکمہ وائلڈ لائف سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلی سوروں کے بڑھتے خطرے سے نمٹنے کیلئے جامع اور مؤثر پالیسی مرتب کی جائے، متاثرہ افراد کو معاوضہ فراہم کیا جائے اور زرعی اراضی و باغات کے تحفظ کیلئے فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ دیہی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔










