سرینگر//جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات کی جانب سے تجاوزات کے تحت زمین کو واگزار کرانے کی بارہا کوششوں کے باوجود 19000 ہیکٹر ) 3لاکھ75ہزار کنال)سے زائدہ قیمتی جنگلاتی اراضی گزشتہ کئی سالوں سے غیر قانونی تجاوزات کی زد میں ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جنگلاتی اور وایلد لائف اراضی پر غیر قانونی قبضے کو ہٹانے کے خلاف جہاں سرکار ششو پنج میں ہیں وہیں ماہرین فکرمند بھی ہیں۔سرکاری اعداد شمار کے مطابق جموں کشمیر میں مختلف جنگلاتی ڈویڑنوں اور وائلڈ لائف پناہ گاہوں کیلئے نشان زد19000 ہیکٹر ) 3لاکھ75ہزار کنال) سے زائد ارضی پر غیر قانون قبضہ ہے،تاہم محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ2375کنال اراضی کو تجاوزات سے پاک کیا گیا۔ جموں کشمیر میں مجموعی طور پر32فارسٹ ڈویڑن ہے جن میں وادی میں32 اور جموں میں 19 ہے۔سرکاری اعداد شمار کے مطابق مجموعی طور پر جموں کشمیر میں6ہزار مربع کلو میٹروں کے علاوہ25لاکھ49ہزار ہیکٹر(5کروڑ4لاکھ) اراضی کو جنگلات اور جنگلاتی حیاتیات کی پناگاہوں کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات نے دعویٰ کیا ہے کہ بے دخلی مہم چلانے کے علاوہ بار بار نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ لیکن مسلسل تجاوزات جموں کشمیر کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔افسراںنے کہا’’جنگلاتی زمین پر بے تحاشا تجاوزات نہ صرف حیاتیاتی تنوع کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ اس سے خطے پر طویل مدتی ماحولیاتی اثرات کے بارے میں خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ حکومت نے زمین کی بازیابی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرنے اور جامع حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وائلڈ لائف پناہ گاہ جموں کے نندنی اور رام نگر میں6484ہیکڑ اراضی کو نشان زد کیا گیا جس میں13.854پر ناجائز تجاوازات ہے جبکہ کھٹوعہ میں13ہیکٹر6کنال اراضی پر غیر قانون قبضہ کیا گیا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائند کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر میں 533.43مربع کلو میٹروں پر پھیلی اراضی ،آ?رہ،آڑو،کھرم کنزرویشن ریزرو راج پریاں وایلڈ لائف پناہ گاہ اور اچھہ بل کنزرویشن وائلڈ الائف پناہ گاہوں کو نشان زد کیا گیا ہے جس میں سے1865.195کنال اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے۔ متعلقہ وائلڈ لائف وارڈن کے مطابق1428کنالوں پر انفرادی سطح پر لوگوں اور437کنالوں پر اداراتی سطح پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آویرہ،آڈو وائلڈ الائف پناہ گاہ سے227.37کنال اراضی کو قابضوں سے چھڑایا گیا۔محکمہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کے راجوری،پونچھ ڈویڑن کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر14ہزار690ہیکٹر اراجی نشان زدہ ہے،جس میں ٹاٹا کٹی وائلڈ لائف سنکچری پونچھ کے تحت11637ہیکٹر، کنزرویشن ریزرو کھیری پونچھ کے تحت1845ہیکٹر،کلیاں کنزرویشن ریزرو پونچھ کے تحت1029ہیکٹر اور شاچیرا کنزرویشن ریزرو کے تحت143ہیکٹر شامل ہیں،تاہم متعلقہ ڈویڑن کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ کتنی اراضی پر ناجائز ابضہ کیا گیا ہے۔وی او آئی کے مطابق وائلڈ الائف نارتھ ڈویڑن سوپور کے مطابق296مربع کلو میٹروں پر جنگلاتی اراضی کو نشان دز کیا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات کہملفارسٹ ڈویڑن کپوارہ میں59938.74ہیکٹرارضی کو جنگلاتی اراضی کے طور پر نشان زد کیا گیا جس میں سے466.55ہیکٹر پر ناجائز قبضہ ہے جبکہ فارسٹ ڈویڑن لنگیٹ میں521ہیکٹر نشان زد اراضی میں سے25.34ہیکٹر اور جہلم ویلی فارسٹ ڈویڑن میں418.2ہیکٹروں میں سے74.58ہیکٹروں پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔محکمہ جنگلات کی جانب سے فراہم کئے گئے اعداد شمار کے مطابق سپیشل فارسٹ ڈویڑن کولگام میں2791.44ہیکٹر اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے316.19ہیکٹروں پر تجاوازات کیا گیا ہے جبکہ ڈویڑنل فارسٹ شوپیاں میں590ہیکٹروں پر لوگ قابض ہے۔اعداد شمار کے مطابق اونتی پورہ فارسٹ ڈویڑن میں1083.25ہیکٹروں کی نشاندہی کی گئی جن میں137.35ہیکٹروں پر ناجائز قبضہ ہے جن میں سے3.5ہیکٹروں کو چھڑایا بھی گیا جبکہ فارسٹ ڈویڑن اننت ناگ میں82829.95 ہیکٹر اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے1535.26ہیکٹروں پر تجاوزات ہے۔ اعداد شمار کے مطابق لدر ڈویڑن بجبہاڈہ میں319.73 ارضی پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے۔ فارسٹ ڈویڑن بانڈی پورہ چتنار میں185934ہیکٹر اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ پیر پنچال ڈویڑن بڈگام میں185934ہیکٹروں کی نشاندہی کی گئی اور کامراج ڈویڑن زانگل کپوارہ میں2148ہیکٹر اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اعداد شمار کے مطابق جموں کے راجوری میں4510.87ہیکٹر،نوشہرہ میں412.60ہیکٹر،ریاسی میں1157.40ہیکٹر،مہور میں1645ہیکٹر، اور پونچھ میں965.92ہیکٹر اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ سرکاری اعداد شمار کے مطابق بٹوت میں474.83 ہیکٹر،جموں میں648ہیکٹر،ڈوڈہ میں173.16ہیکٹر،رام بن میں2202ہیکٹر،کشتواڑ میں379.72ہیکٹر اور بھدرواہ میں310.54ہیکٹر پر تجاوزات ہے۔










