لوسبھا انتخابات میں لوگوں کی شرکت اور ووٹنگ شرح فیصدی قابل اطمینان ۔ راجیو کمار
سرینگر//چیف الیکشن کمیشن نے جموں کشمیر میں جلد اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں جموں کشمیر میں شرح فیصدی کافی اطمیان بخش رہی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ جس اندا ز سے نوجوانوں، خواتین و مرد حضرات نے الیکشن میں اپنی رائے دہی کااظہار کیا وہ قابل تعریف ہے اور یہ ایک جمہوری طرز حکومت کیلئے اہم ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ لوک سبھا کے نتائج ظاہر ہونے کے بعد ہی جلد ممکنہ طور پر جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ انہوںنے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ستمبر سے پہلے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرانے ہیں اور اس کیلئے جلد ہی زمینی سطح پر اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جموں کشمیر میں لوک سبھا انتخابات میں ووٹنگ کی شرح فیصدی پر اطمیان کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیرمیں اسمبلی انتخابات جلد ہی منعقد کرائے جائیں گے ۔ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے ہفتہ کو کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں جموں اور کشمیر میں ووٹروں کی تعداد سے حوصلہ افزا ہوتے ہوئے، الیکشن کمیشن ”بہت جلد” مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اسمبلی انتخابات کرانے کا عمل شروع کرے گا۔انہوں نے ایک قومی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ جموں و کشمیر کے لوگ اپنی حکومت کے مستحق ہیں۔جموں و کشمیر کی مختلف نشستوں پر ٹرن آوٹ اور اگر اسمبلی انتخابات جلد منعقد ہو سکتے ہیں تو چیف الیکشن کمشنر کمار نے کہا کہ پولنگ پینل پارلیمانی انتخابات میں لوگوں کی شرکت سے بہت حوصلہ افزائی کرتا ہے۔لوگ ، نوجوان، خواتین اور بزرگ خوشی سے بڑی تعداد میں (ووٹ ڈالنے کے لئے) نکل رہے ہیں۔ جمہوریت کی جڑیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں، لوگ حصہ انتخابی عمل میںلے رہے ہیں۔’وہ اپنی حکومت کے مستحق ہیں۔ ہم اس عمل کو بہت جلد شروع کریں گے۔انہوںنے بتایا کہ جیسا کہ پارلیمنٹ میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ ستمبر کے مہینے تک جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرائے جائیں تو ہم اس بات کیلئے وعدہ بند ہے کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات لوک سبھا انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس کیلئے تیاریاں شروع کردیں ۔ واضح رہے کہ لوک سبھا انتخابات کے انعقاد کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ سکیورٹی کی وجوہات کی بناء پر جموں کشمیر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات منعقد نہیں کرایئے جاسکتے ہیں ۔واضح رہے کہ جموں کشمیر میں لوک سبھا انتخابات کی سرینگر نشست پر 38فیصدی سے زائد ووٹ پڑے جبکہ بارہمولہ سیٹ پر 59فیصدی ووٹنگ رہی جس پر وزیر اعظم نے بھی اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں کشمیر میں جمہوریت مضبوط ہے اور یہ شرح فیصدی ملک میں ووٹنگ کیلئے سب سے زیادہ اطمینان بخش شرح فیصدی رہی ہے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات اور سٹیڈ ہڈ کی بحالی کے بارے میں پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا اور انہوںنے بتایا تھا کہ وقت پر جموں کشمیر کوسٹیڈ ہڈ بحال کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ نئی حد بندی کے تحت جموں کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 90ہوگئی ہے جبکہ یہ تعداد پہلے 83تھی ۔










