مقامی نوجوان اب ’’دہشت گردی ‘‘ کو پسند نہیں کرتےراجوری پونچھ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ شمالی فوج کے کمانڈر
سرینگر///شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے کہاہے کہ سال 2023صفر دراندازی کا سال رہا ہے جبکہ اس سال میں صرف 19نوجوانوںنے ’’دہشت گردی ‘‘ کے صفوں میں شمولیت اختیار کی ۔ انہوںنے بتایا کہ مقامی نوجوان اب ’’دہشت گردی‘‘ کو پسند نہیں کرتے بلکہ وہ مختلف میدانوں میں اپنا مستقبل تلاش کرتے ہیں ۔ انہوںنے بتایاکہ راجوری میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے اور بہت جلد راجوری اور پونچھ کو ’’دہشت گردوں ‘‘سے پاک کیاجائے گا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندرا دویدی نے اتوار کو کہا کہ فوج نے راجوری پونچھ پٹی میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے جبکہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ سال 2023 کو زیرو انفلٹریشن سال قرار دیا گیا ہے۔ 2023 میں صرف 19 نوجوانوں نے دہشت گردی میں شمولیت اختیار کی جبکہ 2022 میں یہ تعداد 122 تھی۔ سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، شمالی فوج کے کمانڈر نے کہاکہ گزشتہ چند سالوں میں، راجوری-پونچھ کے علاقے میں خوشحالی آئی ہے۔ سرمایہ کاری اور روزگاربڑھنے لگا تھا تاہم ہمارا پڑوسی ملک امن و خوشحالی کو ہضم نہیں کر پا رہا تھا اور اس لیے وہ علاقے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیںہم نے اس حوالے سے سخت ایکشن لینا شروع کر دیا ہے اورآنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ اس پر قابو پایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی سرحدی علاقہ حساس ہے۔ شمالی فوج کے کمانڈر نے کہاکہ ہم نے 2023 کو صفر دراندازی کا سال قرار دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ 2023 میں لائن آف کنٹرول سے کوئی دراندازی نہیں ہوئی۔ اگر آپ دیکھیں تو مارے گئے دہشت گردوں میں سے صرف 21 مقامی ہیں جبکہ 55 غیر ملکی دہشت گرد ہیںشمالی فوج کے کمانڈر نے کہاکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال راجوری-پونچھ پٹی میں ہونے والے حملوں میں فوج کو 20 ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2022 میں 122 نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے اور 2023 میں صرف 19 نے دہشت گردی میں شمولیت اختیار کی۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے رہیں گے کہ مقامی دہشت گردوں کی بھرتیوں کو روکا جائے۔ ہم مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کو یقینی بنا رہے ہیں۔










