manooj pande

جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوںکی تعداد کم :منوج پانڈے

سرینگر / /جموں کشمیر کی صورتحال میںکافی بہتری آئی ہے کی بات کرتے ہوئے فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنرل منوج پانڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ ابھی جموں کشمیر میں سرگرم جنگجوئوںکی تعداد کم ہے اور سال روا ں کے آخر تک تعداد میں مزید کمی آئے گی ۔ سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ایک انگریزی روزنامہ کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ جموں کشمیر میں تشدد کے واقعات میں 50فیصدی کمی آئی ہے اور کشمیر کے حالات مجموعی طورپر بہتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ افراد ان دنوں سیکورٹی فورسزاور عام شہریوں جس میںخاص طور پر ٹارگیٹ کلنگ شامل ہے پر حملہ کرتے ہیں کیونکہ انہیں سرحد کے اُس پار سے ہدایت ملی رہی ہے ۔ تاہم مجموعی طور پر جمو ں کشمیر میں صورتحال بہتر اور قابو میں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ معصوم لوگوں اور سیاسی کارکنوں کی ہلاکت سے لوگ خوفزدہ ہو گئے ہیں کیونکہ یہ سب اس کیلئے کیا جاتا ہے تاکہ حالات کو بگاڑ دیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر دشمن امن نہیں چاہتے ہیں اور اس کیلئے ایسے کارنامے انجام دیکر یہاں کے حالات کو بگاڑنے میںمصروف رہتے ہیں ۔ تاہم سیکورٹی ایجنسیاں کام کر رہی ہے اور ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے کام جاری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی مشرکہ کوششوں سے ہر جگہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ کشمیر میں غیر ملکی جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ میں پڑوسی ملک کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کچھ سالوں سے یہ جتانے کی کوشش کی کہ کشمیر میںمقامی نوجوان کی بندوق اٹھا کر عسکری صفوں میں شامل ہو رہے ہیں تاہم ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور جو بھی جنگجو کشمیر میں ہے وہ سب پاکستانی ہے ۔ لیفٹنٹ جنرل نے کہا کہ جب وہ کوئی پاکستانی جنگجو مارا جاتا ہے تو اس سے ہمسایہ ملک کی اصلیت سامنے آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے نوجوان مارے تاکہ ان کے تمام افراد خانہ ، رشتہ دار اور دیگر لواحقین ملک کے خلاف اٹھ کھڑے ہو سکے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ پاکستان کشمیر میں بد امنی پھیلانے اور حالات بگاڑنے کیلئے ہمارے نوجوان کو استعمال کر رہا ہے اور میں تمام والدین ، سیول سوسائٹی اور دیگر کمیونٹی لیڈران سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارا نوجوان کو مستقبل بچانے اور تشدد کے خاتمہ کیلئے اپنا رول ادا کریں۔ انہوںنے کہا کہ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ہلاک ہو ئے اور کیونکہ ہم ان کو غلط راستے پر چلنے کی اجازت دیتے ہیں ۔