election

جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سیاسی جماعتوں کیلئے چناوی نشان کیلئے درخواستیں طلب کی ہیں

سرینگر///جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے عمل کو شروع کرتے ہوئے، الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے انتخابات کے لیے رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ جماعتوں کے لیے مشترکہ نشانات الاٹ کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ادھر الیکشن کمشنر آف انڈیا نے کہا ہے کہ جلد ہی جموں کشمیر میں نمائندہ جماعتوں کی ایک حکومت قائم ہوگی اور ہمیں اس میں خوشی ہورہی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے کیلئے آگے آرہے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے عمل کو شروع کرتے ہوئے، الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے انتخابات کے لیے رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ جماعتوں کے لیے مشترکہ نشانات الاٹ کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے یونین ٹیریٹری کی قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے انتخابی نشانات (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر 1968 کے پیرا 10 بی کے تحت مشترکہ نشان کی الاٹمنٹ کی درخواستوں کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ جماعتوں سے مشترکہ نشانات کے لیے درخواستیں طلب کرنے کا الیکشن کمیشن کا اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔ دسمبر 2023 میں، سپریم کورٹ نے پول باڈی کو ہدایت کی تھی کہ وہ یوٹی میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کرائے۔ادھر چیف ایکشن کمیشنر آف انڈیا نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جموں کشمیر کے لوگوں کو اپنی نمائندہ حکومت بنانے کا موقع جلد ہی فراہم کیا جائے گا ۔ رجیو کمار نے بتایا کہ لوگوں کو جلد ہی اسمبلی انتخابات میں شرکت کیلئے گھروں سے باہر آنے کا موقع ملے گا کیوں کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں جس طرح سے لوگوں نے شرکت کرکے اپنی رائے دہی کا استعمال کیا ہے وہ قابل اطمینان ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ مرکز میں نئی حکومت بننے کے فورا بعد اس سلسلے میں اقدامات اُٹھائے جائیں گے اور امرناتھ یاترا کے اختتام کے ساتھ ہی ووٹنگ کا عمل بھی شروع ہوسکتا ہے ۔ راجیو کمار نے امکان ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مرکز میں نئی حکومت تشکیل پاتے ہی اس سلسلے میں اقدامات اُٹھائے جائیں گے اور ممکنہ طور پر امرناتھ یاترا ختم ہوتے ہی جموں کشمیر ایک نیا الیکشن دیکھے گا۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں ووٹنگ فیصد نے چار دہائیوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ جبکہ جموں اور ادھم پور لوک سبھا سیٹیں اچھے ٹرن آؤٹ کے لیے مشہور ہیں۔ بارہمولہ، اننت ناگ اور سری نگر میں بھی اس بار متاثر کن پولنگ فیصد ریکارڈ کی گئی۔سی ای سی راجیو کمار نے پہلے بھی کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں پارلیمانی انتخابات کے کامیاب انعقاد کے فوراً بعد اسمبلی انتخابات کرائے جائیں گے۔سپریم کورٹ نے 11 دسمبر 2023 کو جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو 30 ستمبر 2024 سے پہلے یونین ٹیریٹری میں اسمبلی انتخابات کرانے کی ہدایت دی تھی۔جموں و کشمیر میں آخری اسمبلی انتخابات نومبر-دسمبر 2014 میں ہوئے تھے۔ یوٹی میں اسمبلی کی 90 نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ، اسمبلی میں پاکستان کے زیر قبضہ جموں کشمیر کے لیے 24 نشستیں مخصوص ہیں۔ پانچ ایم ایل ایز کی نامزدگی کا بھی انتظام ہے جن میں دو خواتین، دو کشمیری مہاجر، ان میں سے ایک خاتون، اور ایک پاکستانی زیر قبضہ کشمیر مہاجر شامل ہیں ۔