PK Pol

جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیوں میں اُبال

انتخابات کے پہلے مرحلے میں 23.27 لاکھ رائے دہندگان ووٹ ڈالیں گے ۔چیف الیکٹورل آفیسر

سرینگر/// جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی خطے میں سیاسی سرگرمیوں میں اُبال آرہا ہے ہے جبکہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران 23.27 لاکھ سے زیادہ ووٹرز بشمول 5.66 لاکھ نوجوان اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں جو کہ 18 ستمبر 2024 کوجموں و کشمیر کے 7 اضلاع میں، 24 اسمبلی حلقوںمیں منعقد ہونے والے ہیں۔دریں اثناء مرکزی سرکار کی جانب سے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات صاف و شفاف اور منصفانہ طریقے سے منعقد کرانے کیلئے بشمول ہریانہ تقریباً 200 جنرل آبزرور، 100 پولیس مبصر اور 100 ایکسپینڈیچر آبزرور تعینات کیے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی جہاں امیدواروں کے دلوں کی دھڑکیں بڑھ رہی ہیں وہیں سیاسی سرگرمیوں میں بھی اُبال آرہا ہے ۔ اس بیچ چیف الیکٹورل آفیسر پانڈورنگ کے لے نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران 23.27 لاکھ سے زیادہ ووٹرز بشمول 5.66 لاکھ نوجوان اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں جو کہ 18 ستمبر 2024 کوجموں و کشمیر کے 7 اضلاع میں، 24 اسمبلی حلقوںمیں منعقد ہونے والے ہیں۔سی ای او نے کہا کہ دستیاب انتخابی فہرستوں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کل 23,27,543 لاکھ ووٹرز ہیں، جو جموں و کشمیر اسمبلی کے پہلے مرحلے کے دوران ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ان میں سے 11,76,441 مرد ووٹرز اور 11,51,042 خواتین ووٹرز کے ساتھ 60 تھرڈ جینڈر الیکٹرس ہیں۔جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی طرف سے جمہوریت کو مضبوط بنانے میں جو کردار ادا کیا جائے گا اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سی ای او نے کہا کہ اسمبلی الیکشن کے پہلے مرحلے میں 5.66 لاکھ نوجوان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔یہ 5.66 لاکھ نوجوان ووٹروں کی عمریں 18-29 سال کے درمیان ہیں اور ان میں 1,23,922 پہلی بار 18-19 سال کی عمر کے ووٹرز شامل ہیں، جن میں سے 65542 مرد اور 58380 خواتین ووٹرز ہیں۔پہلے مرحلے میں 28,310 معذور افراد اور 85 سال سے زیادہ عمر کے 15,774 ووٹرز اپنا ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔پہلے مرحلے میں جموں و کشمیر دونوں ڈویژنوں میں 24 اسمبلی حلقوں میں 18 ستمبر 2024 کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔کشمیر ڈویژن میں اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں، کولگام اور جموں ڈویژن میں ڈوڈہ، رام بن اور کشتواڑ اضلاع کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ کشمیر ڈویژن میں 16 اسمبلی حلقے شامل ہیں جن میں پانپور، ترال، پلوامہ، راج پورہ، زینہ پورہ، شوپیاں، ڈی ایچ پورہ، کولگام، دیوسر، ڈورو، کوکرناگ (ایس ٹی)، اننت ناگ ویسٹ، اننت ناگ، سری گفوارہ-بجبہاڑہ، شانگس-اننت ناگ، مشرقی جبکہ جموں ڈویژن میں 8 اسمبلی حلقوں بشمول اندروال، کشتواڑ، پڈر ناگسینی، بھدرواہ، ڈوڈہ، ڈوڈہ ویسٹ، رام بن اور بانہال میں اسمبلی الیکشن کے پہلے مرحلے میں پولنگ ہونے والی ہے جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے نوٹیفکیشن 20 اگست، 2024 کو جاری کیا گیا تھا اورپہلے مرحلے کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 27 اگست، 2024 ہے۔دریں اثناء جموں و کشمیر اور ہریانہ میں تقریباً 200 جنرل آبزرور، 100 پولیس مبصر اور 100 ایکسپینڈیچر آبزرور تعینات کیے گئے ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر اور ہریانہ میں تقریباً 200 جنرل آبزرور، 100 پولیس مبصر اور 100 ایکسپینڈیچر آبزرور تعینات کیے گئے ہیں۔مبصرین کو ان کے اہم کردار کی یاد دلاتے ہوئے، چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے زور دے کر کہا کہ کمیشن کے نمائندوں کے طور پر مبصرین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو پیشہ ورانہ انداز میں چلائیں اور امیدواروں اور عوام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل رسائی ہوں۔ انہوں نے انہیں زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کا مشورہ دیا کہ بات چیت میں کوئی خلاء نہ ہو۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مبصرین کو پارٹیوں، امیدواروں، ووٹرز اور کمیشن کی یکساں نگاہوں سے بھی دیکھا جائے گا، سی ای سی نے مزید کہا کہ انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ان کی معلومات اہم ہوں گی۔ انہوں نے مبصرین کو بروقت کارروائی کے لیے انتخابی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کرنے والے جھوٹے بیانیے سے بھی چوکنا رہنے کا مشورہ دیا۔اس موقعے پر الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ مبصرین کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے مکمل انتخابی ماحولیاتی نظام کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ اسمبلی انتخابات بھرپور طریقے سے لڑے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں مبصرین کا کردار اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ای سی ڈاکٹر سندھو نے کمیشن کی آنکھ اور کان کے کردار کی روشنی میں مبصرین سے اپنے خطاب میں تین نکات پر زور دیا۔ ڈاکٹر سندھو نے کہا کہ رسائی، مرئیت اور جوابدہی انتخابات کے انعقاد کو بڑھانے کے لیے ایک نیک سرپل تیار کرنے کے لیے ضروری ہے۔واضح رہے کہ جموں کشمیر میں 18ستمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے مرکزی سرکار نے جموں کشمیر میں مزید 300فورسز کمپنیوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے ۔ تاکہ الیکشن میں کسی قسم کا خلل نہ پڑے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ان فورسز کمپنیوں کو سرینگر، ہندواڑہ، گاندربل، بڈگام، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اننت ناگ، شوپیاں، پلوامہ، اونتی پورہ اور کولگام میں تعینات کیا کیا جارہا ہے ۔نیم فوجی دستوں کی 298 کمپنیاں جن میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکورٹی فورس، سشستر سیما بل اور انڈو تبت بارڈر پولیس شامل ہیں، وادی کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات کی جارہی ہیں۔حکام کے مطابق سرینگر میں سب سے زیادہ کمپنیاں (55) تعینات کی جائیں گی ۔اس کے بعد اننت ناگ میں(50)، کولگام (31)، بڈگام، پلوامہ، اور اونتی پورہ پولیس اضلاع (ہر ایک میں 24)، شوپیاں (22)، کپواڑہ (20) ، بارہمولہ (17)، ہندواڑہ 15، بانڈی پورہ 13، اور گاندربل (3)کمپنیاں تعینات کی جارہی ہیں ۔ تین مرحلوں میں ہونے والی پولنگ کے پہلے مرحلے کا نوٹیفکیشن منگل کو جاری کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ 18 ستمبر، دوسرے مرحلے کی 25 ستمبر اور تیسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ یکم اکتوبر کو ہوگی۔