جموں و کشمیر کی ترقیاتی پیش رفت کو پارلیمانی کمیٹی کی بھرپور سراہنا

منشیات کے استعمال اور جنگلاتی حقوق قانون کے معاملات پر خصوصی توجہ دینے کی سفارش

سرینگر// امورِ داخلہ سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے، رابطہ سڑکوں، قابلِ تجدید توانائی، صحت، صنعتی ترقی اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے باقی ماندہ خلا کو دور کرنے کیلئے بروقت اقدامات، مناسب مالی وسائل اور مضبوط نگرانی کی سفارش کی ہے۔یو این ایس کے مطابق اپنی تازہ رپورٹ میں کمیٹی نے سڑکوں، سرنگوں، پلوں اور دیہی رابطہ سڑکوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کیلئے مختلف مرکزی اور یوٹی اداروں کی کوششوں کو سراہا۔ پینل نے موسمیاتی مزاحم سڑکوں، اہم سرنگ منصوبوں کی جلد تکمیل، سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔کمیٹی نے مکمل شدہ اور جاری منصوبوں کی دیکھ بھال کیلئے مناسب فنڈز مختص کرنے اور تمام منظور شدہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی سفارش کی۔ سری نگر ریلوے اسٹیشن اور بانہال-بارہمولہ ریلوے سیکشن کی اپ گریڈیشن کو سراہتے ہوئے اسے معاشی ترقی، سیاحت اور علاقائی رابطے کیلئے اہم قرار دیا گیا۔سری نگر ہوائی اڈے پر 1,667 کروڑ روپے کے سول انکلیو کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے پینل نے کٹرا میں ہوائی اڈے یا مناسب ایوی ایشن سہولت کے قیام کیلئے جامع تکنیکی، اقتصادی اور ماحولیاتی فزیبلٹی اسٹڈی کی سفارش بھی کی۔قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں کمیٹی نے روف ٹاپ سولر اور پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے تمام سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن تیز کرنے اور دور دراز علاقوں تک صاف توانائی کی رسائی بڑھانے پر زور دیا۔ جل جیون مشن کے تحت زیر التوا منصوبوں کی جلد تکمیل اور باقی دیہی گھرانوں کو فعال نل کنکشن فراہم کرنے کیلئے بروقت مالی معاونت کی سفارش بھی کی گئی۔صنعتی شعبے میں پینل نے نیو سینٹرل سیکٹر اسکیم کے تحت سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافے کو سراہا۔ کمیٹی نے مقامی کاروباری افراد، ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور روزگار پر مبنی صنعتوں کیلئے مزید سہولیات، صنعتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی کے پروگراموں پر زور دیا۔یو این ایس کے مطابق صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے کمیٹی نے دور دراز، سرحدی اور مشکل علاقوں میں ڈاکٹروں اور ماہرین کی کمی دور کرنے کیلئے باقاعدہ بھرتیوں، پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم اور خصوصی تربیت میں توسیع کی سفارش کی۔کمیٹی نے 2024-25 میں سیکنڈری سطح پر اسکول ڈراپ آؤٹ شرح 12.60 فیصد تک پہنچنے پر تشویش ظاہر کی۔ پینل نے یونیورسل انرولمنٹ کیلئے مشن موڈ میں اقدامات، ضلع وار اہداف اور چیف سیکریٹری کی سطح پر سال میں کم از کم دو مرتبہ جائزے کی سفارش کی۔ دیہی، سرحدی اور مشکل علاقوں میں اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے مناسب مراعات اور رہائش فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔فارسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت موصول ہونے والے 46,242 دعوؤں میں سے صرف 6,172 منظور جبکہ 39,898 مسترد ہونے پر کمیٹی نے تشویش ظاہر کی۔ پینل نے مسترد شدہ دعوؤں کا وقت مقررہ میں دوبارہ جائزہ لینے اور قبائلی و خانہ بدوش برادریوں کے حقیقی دعویداروں کو قانونی و انتظامی معاونت فراہم کرنے کی سفارش کی۔کمیٹی نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے استعمال کو بھی سنگین سماجی، صحت اور سکیورٹی چیلنج قرار دیا۔ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کارروائیوں اور نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کو سراہتے ہوئے پینل نے روک تھام، علاج، بحالی اور سماجی انضمام پر بھی یکساں توجہ دینے، ضلع سطح پر ڈی ایڈکشن و کونسلنگ مراکز بڑھانے اور طلبہ و والدین کیلئے آگاہی مہمات تیز کرنے کی سفارش کی۔پینل نے حقیقی دعویداروں، بالخصوص خانہ بدوش اور قبائلی برادریوں کے افراد کیلئے قانونی اور انتظامی معاونت فراہم کرنے کی بھی سفارش کی۔کمیٹی نے جموں و کشمیر میں خصوصاً نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بڑا سماجی، صحت عامہ، معاشی اور سکیورٹی چیلنج قرار دیا۔پینل نے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت جائیدادوں کی ضبطی، منشیات کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے، غیر قانونی کاشت کے خلاف کارروائی اور نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو سراہا، تاہم واضح کیا کہ صرف نفاذِ قانون سے اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔کمیٹی نے منشیات کی روک تھام، ابتدائی مداخلت، نشہ چھڑانے، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام پر یکساں توجہ دینے کی سفارش کی۔ پینل نے سرحد پار منشیات اسمگلنگ کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں تیز کرنے، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تعلیمی اداروں، محکمہ صحت اور سماجی تنظیموں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے، ضلع سطح پر ڈی ایڈکشن اور کونسلنگ مراکز کی تعداد بڑھانے اور طلبہ، والدین اور حساس طبقات کیلئے آگاہی مہمات میں شدت لانے پر بھی زور دیا۔