جموں و کشمیر کی ابتدائی تعلیم کیلئے مرکزی بجٹ میں 38 فیصد کمی

یو ٹی کی مرکزی گرانٹ1017 سے گھٹ کر 633 کروڑ روپے رہ گئی

سرینگر//جموں و کشمیر میں ابتدائی تعلیم کے شعبے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے مختص رقم میں رواں مالی سال کے دوران تقریباً 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ لوک سبھا میں پیر کو پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سمگرا شکشا اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کیلئے 2026-27 میں 633.53 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ رقم 1017.75 کروڑ روپے تھی۔یو این ایس کے مطابق مرکزی مختص رقم میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ 2023-24 میں جموں و کشمیر کیلئے سمگرا شکشا کے تحت 1234.55 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جو 2024-25 میں کم ہوکر 1180.11 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 1017.75 کروڑ روپے رہ گئے۔ رواں مالی سال 633.53 کروڑ روپے کی منظوری کے ساتھ چار برسوں میں مختص رقم میں مجموعی طور پر تقریباً 49 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2026-27 کیلئے جموں و کشمیر کو مختص رقم کئی بڑی ریاستوں کے مقابلے میں کم ہے۔ مہاراشٹر کیلئے 1744.65 کروڑ، راجستھان کیلئے 3081.48 کروڑ، بہار کیلئے 5970.76 کروڑ جبکہ اتر پردیش کیلئے 8898.96 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ سمگرا شکشا کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فنڈز منظور شدہ سالانہ منصوبوں، گزشتہ اخراجات کی رفتار اور مقررہ مالی شرائط پوری کرنے کی بنیاد پر جاری کیے جاتے ہیں۔حکومت کے مطابق بعض ریاستیں اخراجات کی سست رفتار کے باعث تمام قسطیں حاصل نہیں کر پاتیں، جبکہ گزشتہ سال کی غیر خرچ شدہ رقم کو بھی آئندہ فنڈز جاری کرتے وقت مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مزید قسطوں کیلئے آڈٹ شدہ حسابات، یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس، تازہ اخراجاتی تفصیلات اور متعلقہ ریاستی حصے کی وصولی سمیت دیگر شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔مرکزی وزارت تعلیم نے سمگرا شکشا کے تحت اخراجات اور منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی کیلئے ’پربند‘نظام بھی نافذ کیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے مختلف مداخلتوں کے تحت ماہانہ مالی اور طبعی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ جائزہ اجلاس اور فالو اپ بھی کیے جاتے ہیں۔ مفت درسی کتب کیلئے قومی سطح پر اخراجات 2024-25 میں 2551.33 کروڑ روپے کے مقابلے میں 2025-26 میں 2353.23 کروڑ روپے رہے، جبکہ مفت یونیفارم پر اخراجات معمولی اضافے کے ساتھ 3845.93 کروڑ سے بڑھ کر 3871.02 کروڑ روپے ہوگئے۔