جموں و کشمیر کو مقررہ تاریخ سے پہلے صد فیصد دیہی بجلی کاری حاصل کرنے پر 100 کروڑ روپے کا انعام ملا

سرینگر//جموں و کشمیر کو مقررہ وقت سے پہلے صد فیصد بجلی کاری کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے حکومت ہند کی طرف سے 100 کروڑ روپے کا انعام ملا ہے ۔ ٍقابل ذکر بات یہ ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے نے پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا ’ سوبھاگیہ ‘ کے تحت ایک اور سنگِ میل حاصل کیا ہے اور جموں و کشمیر نے دیہی بجلی کاری کے صد فیصد ہدف کو بھی مقررہ تاریخ سے پہلے ہی حاصل کیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 25 ستمبر 2017 کو سوبھاگیہ اسکیم کا آغاز کیا تا کہ ملک کے ہر گاؤں اور ہر ضلع کا احاطہ کرتے ہوئے عالمگیر گھریلو بجلی کاری حاصل کی جا سکے ۔ اسکیم کا تخمینہ 16320 کروڑ روپے تھا جس میں 12320 کروڑ روپے کی مجموعی بجٹ امداد شامل ہے ۔ اس اسکیم نے دیہی علاقوں میں تمام بجلی سے محروم گھرانوں کو آخری میل کنیکٹیویٹی اور بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کے علاوہ دور دراز اور ناقابلِ رسائی دیہاتوں /رہائش گاہوں میں واقع بجلی سے محروم گھرانوں کیلئے سولر فوٹو وولٹائیک ( ایس پی وی ) پر مبنی اسٹینڈ الون نظام فراہم کیا ۔ جے اینڈ کے پاور ڈیپارٹمنٹ ڈیولپمنٹ نے ہر گاؤں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے سخت محنت کی جو اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ پورے یو ٹی میں تقریباً 357405 گھرانوں کو بجلی فراہم کی گئی ہے ۔ پہاڑی خطوں اور خطے کی مشکل ٹپو گرافی جیسی بہت سی قدرتی رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود جموں و کشمیر حکومت نے ان مقامات پر رہنے والے باشندوں کا بلب کی روشنی دیکھنے کا خواب پورا کیا ۔ آزادی کے 73 سال بعد پہلی بار ضلع اودھمپور کے گاؤں سدل اور ڈوڈہ ضلع کے گنوری ۔ تنتا گاؤں میں بجلی کے بلب کی روشنی نے گاؤں والوں کی زندگیوں سے کئی دہائیوں کے اندھیرے کو ختم کرتے ہوئے دیکھا ۔ اسی طرح راجوری میں نوشہرہ سب ڈویژن کے دور دراز اور پہاڑی سرحدی علاقوں میں دیہاتی حکومت کی سوبھاگیہ اسکیم کے تحت بجلی حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگیوں میں ایک بڑی تبدیلی کا تجربہ کر رہے ہیں ۔ یہ علاقہ گذشتہ سات دہائیوں سے بجلی کی فراہمی سے محروم تھا ۔ علاقے کے ایک رہائشی عبدالحمید نے کہا ’’ ہم حکومت کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے سوبھاگیہ جیسی پُر جوش اسکیمیں شروع کیں جس نے ہماری زندگیوں کو ناقابلِ یقین طریقوں سے آرام دہ اور سہل بنا دیا ہے ۔ اس سے قبل ہمارے بچے بجلی کی کمی کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے تھے ۔ ہمیں اپنے موبائیل فون چارج کرنے کیلئے دوسرے گاؤں جانا پڑتا تھا ۔ ‘‘ حکومت کے ایک اور اہم اقدام میں جی اے آر وی ( گرامین ودیوتی کرن ) ایپ کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد بجلی کی اسکیموں کے نفاذ میں شفافیت کی نگرانی کرنا ہے ۔ نیز جی اے آر وی ایپ کے ذریعے پیش رفت کی اطلاع دینے کیلئے حکومت نے گرامین ودیوت ابھیانتا ( جی وی ایز ) کو مقرر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ’ گرام جیوتی دوت ‘ ’ ارجاوستار ‘ جیسی موبائل ایپس کو بجلی کے کنکشن کے تیز رفتار ریلیز کیلئے وضع کیا گیا ہے ۔ تمام اضلاع میں ’ سوبھاگیہ رتھ ‘ کو بجلی کی وزارت کی طرف سے ایک اختراعی عمل کے طور پر سراہا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت نے نظر ثانی شدہ ٹیرف پالیسی میں 4 ایز کا تصور بھی دیا ہے جس میں ’ سب کیلئے بجلی ‘ سستی ٹیرف کو یقینی بنانے کیلئے کارکردگی ، پائیدار مستقبل کے لئے ماحولیات اور کاروبار کرنے میں آسانی تا کہ سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور مالی استحکام کو یقینی بنایاجاسکے۔