Ashok-Koul

جموں و کشمیر کو سٹیٹ کا درجہ انتخابات کے بعد یا پہلے واپس ملے گا :اشوک کول

سر ینگر //بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ کے جنرل سکریٹری ( آرگنائزیشنز) اشوک کول کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور ہوم منسٹر نے ہاوس میں س بات کا یقین دلایا تھا کہ جموںو کشمیر کو سٹیٹ کا درجہ واپس ملے گا۔تاہم انہوں نے کہا دفعہ370کی بحالی اب ممکن نہیں ہے۔انہوں نے عوامی مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیرو کریسی عوامی سرکار کا متبادل نہیں ہے ۔تاہم انہوں نے کہا ی ڈی ڈی سی ممبران لوگوں اور سرکار کے ساتھ براہ راست بات کرتے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کول سرینگر میں جمعرات کے روز ایک اخبار کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ’’ ہمارے ہوم منسٹر اور وزیر عظم نے فلوت آف دسی ہاوس میں یہ بات دہرائی ہے کہ جموںو کشمیر کی سٹیٹ ہوڈدوبارہ بحال کی جائے گی ۔انہوں نے کہا حد بندی مکمل ہونے کے ساتھ ہی انتخابات کے آگے یا بیچھے اس کو بحال کیا جائے گا مجھے پورا بھروسہ ہے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس طرح کل ہی روندر رینہ نے کہا جن کا وہ خواب ہے کہ دفعہ370بحال ہوگا انہیں وہ خواب چھوڑنا چاہے ۔انہوں نے کہا یہاں کے لوگ اور بی جے پی اس دفعہ کے بحالی کے لئے کوئی کام بات نہیںکریں گے ۔لوگوں کو درپیش مسائل کے جواب میں اشوک کول نے کہا جو منتخبہ نمائندے ہوتے ہیں ان کا ایک بڑا رول ہوتا ہے اور عوام کو ان کے ساتھ رابطہ آسانی کے ساتھ رہتا ہے جبکہ بیروکیٹس کے ساتھ لوگوں کا آسان رابط نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا منتخبہ نمائندوں کا ضروری ہوتا ہے ۔تاہم انہوں نے کہا ڈی ڈی سی چیر مین کا لوگوں اور سرکار کے درمیان رابط ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا اسمبلی ممبر کافی عوامی نمائندہ ہوتا ہے وہ بہت مضبوط ہوتا ہے ۔کول نے کہا کہ حد بندی مکمل ہونے تک انتظار کرنا ہوگا اسمبلی نمائندے منتخب ہوں گے لوگوں کو آسان رابطہ رہے گا جس کے ساتھ سب ٹھیک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی دیکھنی ہے بہت سارے انٹر نیشنل فورم میں بھارت کے خلاف سازش بن رہی ہے اس میں جموں و کشمیر ایک آسان نشانہ لگتا ہے۔اس لئے وہ اس کا ستعمال کرتے ہیں ۔اور اس کو آگے بڑھانے کے لئے کوشش کریں گے ۔اشوک کول نے کہا گزشتہ تیس سال کے دوران جو ہمارے لوگوں کو یہاں دیکھنا پڑا ہے اسے ان کو نجات ملے گا ۔ کول نے اسے قبل گزشتہ روز بھی کہا تھا کہ ’جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی سر نو حدی بندی کے فوراً بعد انتخابات منعقد ہوں گے الیکشن کمیشن کو حد بندی کے بعد نئے قوانین بنانے میں تھوڑا وقت لگے گا اور اس کے بعد الیکشن منعقد کرائے جائیں گے‘۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حد بندی کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لئے 6 مارچ تک کا وقت دیا ہے اور اس کے بعد ڈیڈ لائن میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔