35 معیار پر پورے نہ اترسکے/فوڈاینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن
سری نگر/یو این ایس/ جموں و کشمیر فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے مرکز کے زیر انتظام تمام اضلاع میں خصوصی کارروائی کے دوران 455 غذائی اشیاء کے نمونوں کی جانچ کی، جن میں سے 35 نمونے مقررہ لیبلنگ ضوابط کے مطابق نہیں پائے گئے۔یہ کارروائی پیک شدہ غذائی اشیاء پر درج معلومات کی جانچ کے لیے کی گئی۔ اس دوران مصالحہ جات، خوردنی تیل، دودھ سے بنی اشیا ، بیکری اور مٹھائی کی مصنوعات، شہد، چاول، مشروبات، کافی اور خشک میوہ جات سمیت مختلف غذائی مصنوعات کے نمونے حاصل کیے گئے۔ایف ڈی اے حکام نے ان اشیاء کے لیبل پر درج لازمی معلومات کی جانچ کی، جن میں غذا کا نام اور نوعیت، اجزا، غذائیت سے متعلق معلومات، بیچ یا لاٹ نمبر، تیاری یا پیکنگ کی تاریخ، استعمال کی آخری تاریخ یا بہترین استعمال کی تاریخ، زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت، تیار کنندہ یا پیک کرنے والے کی تفصیلات، ایف ایس ایس اے آئی لائسنس یا رجسٹریشن نمبر اور سبزی خور یا غیر سبزی خور ہونے کی علامت شامل ہیں۔حکام نے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے متعلقہ غذائی کاروباری اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت میں خامیاں دور نہ کرنے کی صورت میں قانون کے تحت مزید کارروائی کی جائے گی۔ایف ڈی اے نے غذائی اشیاء کے لیبل پر درج صحت، غذائیت اور دیگر دعوؤں کی بھی جانچ کی۔ یہ جانچ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (ایڈورٹائزنگ اینڈ کلیمز) ریگولیشنز، 2018 کے تحت کی گئی۔ ایسے دعوے جو گمراہ کن یا مقررہ ضوابط کے مطابق نہیں پائے گئے، انہیں ہٹانے یا درست کرنے کی ہدایت متعلقہ کاروباری اداروں کو دی گئی۔ایف ڈی اے کے مطابق جہاں خلاف ورزی ثابت ہوگی وہاں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ قانون کی دفعہ 52 کے تحت غلط یا گمراہ کن لیبل والی غذائی اشیاء پر 3 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، جبکہ دفعہ 53 کے تحت گمراہ کن اشتہارات پر 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی گنجائش ہے۔اسی طرح دفعہ 61 کے تحت غلط معلومات فراہم کرنے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔متعلقہ نامزد افسران اور فوڈ سیفٹی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور ضرورت کے مطابق مزید کارروائی، بشمول فیصلہ سازی یا قانونی مقدمہ دائر کرنے کے اقدامات، عمل میں لائیں۔










