جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کی بازگشت

آج مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تمام انتخابی فہرستوں کو منجمد کرنے کا حکم

سری نگر//جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کی طرف ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے، چیف الیکٹورل آفیسر نے 20 جون سے پہلے تمام پولنگ سٹیشنوں کو معقول بنانے اور2جون کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تمام انتخابی فہرستوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔چیف الیکٹورل آفیسر نے ان ہدایات کو جموں و کشمیر کے تمام 20 ڈپٹی کمشنروں کو پہنچا دیا ہے، جو ڈسٹرکٹ الیکٹورل آفیسرز بھی ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ایک میڈیا رپورٹ میں سرکاری ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے یہ انکشاف کیاگیاہے کہ چیف الیکٹورل آفس2جون کو جموں و کشمیر کے تمام انتخابی فہرست آپریشنز کو منجمد کر دے گا۔ذرائع نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تمام20 اضلاع جہاں بھی ضروری ہو، الیکشن کمیشن آف انڈیا کی موجودہ ہدایات کے مطابق پولنگ اسٹیشنوں کو معقول بنانے کے لیے تجاویز پر کام کریں گے اور انہیں20 جون تک چیف الیکٹورل آفیسرکے دفتر میں جمع کرائیں گے۔ذرائع نے مزیدبتایاکہ پولنگ سٹیشنوں کی معقولیت اور نئے پولنگ سٹیشنوں کے نوٹیفکیشن کے بعد، نئے اسمبلی حلقوں کے انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) ڈی ای او کی قریبی نگرانی میں (حد بندی کے حکم کے مطابق) مربوط انتخابی فہرستوں کی پرنٹنگ کے لئے سرگرمیاں شروع کریں گے۔ چیف الیکٹورل آفیسر آفس نے تمام ڈی ای اوئوز سے ای آر اوئوز اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (اے ای آر اوئوز) کی تقرری کیلئے تجاویز پیش کرنے کو بھی کہا ہے۔انہوںنے نے 25 جون تک ڈی ای اوئوز کی نگرانی میں حد بندی کے عمل کیلئے مربوط ای،رول کی تیاری اور پرنٹنگ کے لیے کہا۔ذرائع نے بتایا کہ ERO Netپر زیر التواء دعووں اور اعتراضات کو نمٹانا اور تمام زیر التواء کاموں کی تکمیل بشمولDSEs، منطقی غلطیوں، EPICsکو دہرانا، یکم جون تک غیر تصویری اندراجات کی تصاویر کو اپ ڈیٹ کرنا ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔ چیف الیکٹورل آفیسر آفس نے ہدایت دی ہے کہ اسٹیٹVM کا بیک اپ اور ERO Net پر لائیو ڈیٹ، لائیو سروس سے اسٹیٹVM سروسز تک یا یا10 جون سے پہلے ای،رول ڈیٹا کی اپ ڈیٹ اور ای،رول میں تمام سپلیمنٹس کا انضمامIT ٹیم کے ذریعے کیا جائے گا۔میڈیارپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ چیف الیکٹورل افسر17 جون تک تمام اضلاع کے ساتھ مربوط ای،رول کے موجودہ کنٹرول ٹیبل ماسٹر ڈیٹا کا اشتراک کریں گے۔ چیف الیکٹورل افسر نے ڈی ای اوئوز سے کہا ہے کہ پولنگ سٹیشنوں کے نوٹیفکیشن کے بعد جہاں بھی ضرورت ہو وہاں بی ایل اوز کا تقرر کریں، ای-رول ڈیٹا کو انٹیگریٹ کریں جہاں پولنگ سٹیشن اسمبلی حلقہ/ضلع کے اندر یا باہر شفٹ ہونے ہیں، الگ الگ کریں اور ای-رول پر سیکشن/پولنگ سٹیشنوں کو نشان زد کریں۔ حلقہ بندی کے حکم کے مطابق اسمبلی حلقہ/ضلع کے اندر یا باہر، ووٹروں اور پولنگ سٹیشنوں کو ایک حلقہ/ضلع سے دوسرے میں منتقل کرنا، نئے پولنگ سٹیشنوں کی تخلیق/نام تبدیل/منتقل کرنا، اسمبلی حلقہ کی فہرست کے مطابق موجودہ اور نئے بنائے گئے پولنگ سٹیشنوں کو دوبارہ سیریل کرنا، تمام پولنگ سٹیشنوں (ریونیو یونٹس/اربن لوکل باڈیز/پنچایت یونٹس) کے ہیڈر پیج کو اپ ڈیٹ کریں اور حد بندی کے مطابق نئے پارلیمانی حلقوں، اسمبلی حلقوں اور پولنگ سٹیشنوں کے نمبروں اور ناموں کی میپنگ کریں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ، الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے مطلع کئے جانے والے شیڈول کے مطابق ای-رولز کی خصوصی سمری نظر ثانی کی جائے گی اور اس کے مطابق ڈرافٹ فہرستوں کی اشاعت، دعووں اور اعتراضات کو پْر کرنا، دعووں اور اعتراضات کا ازالہ اور حتمی اشاعت انتخابی فہرستیں تیار کی جائیں گی۔حد بندی کمیشن نے5مئی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی جبکہ وزارت قانون نے اسے کچھ دن بعد سرکاری گزٹ میں شائع کیا۔ یہ رپورٹ اب پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی جس کے بعد مرکزی حکومت کشمیری مہاجرین اور پاکستانی زیرکنٹرول کشمیر کے بے گھر افراد کی نامزدگی کے معاملے پر فیصلہ کرے گی۔کمیشن پہلے ہی اسمبلی میں درج فہرست قبائل کے لیے نو نشستیں اور درج فہرست ذاتوں کے لیے سات نشستیں محفوظ کر چکا ہے۔ کشمیر میں اسمبلی کی 47 اور جموں کی43 نشستیں ہوں گی۔پچھلی اسمبلی میں کشمیر کی 46، جموں کی 37 اور لداخ کی 4 نشستیں تھیں۔