محنت کشوں کاعالمی دن ،EJCCاور فوڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن جموں وکشمیرکی مشترکہ تقریب

جموں و کشمیر غیر ملکی اور گھریلو سرمایہ کاری کیلئے سرفہرست مقام کے طور پر اُبھر رہا ہے

حکومت حکمرانی میںبہتری لانے اور شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے وسیع پیمانے پر اِصلاحات لانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے

جموں//جموںوکشمیر ملک میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑ ا مقام بننے کے لئے تیار ہے کیوں کہ یہ مختلف بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں میں حصہ لے رہا ہے اور کئی فورموں اور صنعتی سربراہی اِجلاسوں کے ذریعے غیر ملکی اور گھریلو سرمایہ کاروں تک پہنچ رہا ہے۔حکام کے مطابق بیرونی ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کار جموں و کشمیر میں کئی گنا سرمایہ کاری سے سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہیں جو جموں و کشمیر کو گذشتہ 75 برسوںمیں نہیں ملی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی پنچایتی راج دِن کی تقریبات میں شرکت کے لئے سانبہ کے پالی گائوں پہنچنے سے پہلے متحدہ عرب اَمارات کے ایک بڑے وفد سے ملاقات کی ۔اُنہوں نے کہا کہ ترقی کی ایک نئی داستان رقم کی جارہی ہے اورجموں وکشمیر میں بہت سے نجی سرمایہ کار دِلچسپی رکھتے ہیں۔آزادی کے سات دہائیوں تک جموںوکشمیر میں صرف 17ہزارکروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری ہوسکی ۔ لیکن یہ سرمایہ کاری اَب تقریباً38,000 کروڑ روپے تک پہنچ رہی ہے۔جموںوکشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی اِنتظامیہ نے دبئی میں مقیم سرمایہ کاروں کو جموںوکشمیر یوٹی میں سرمایہ کاری کے اِمکانات تلاش کرنے کی خاطر قائل کرنے کے لئے سخت محنت کی ۔سال2019ء میں آرٹیکل 370کو ختم کرنے کے بعد اَپنے منصوبوں کے لئے زمین خریدنے والے جے ایس ڈبلیو سٹیل لمٹیڈ اور اپولو ہسپٹلز اَنٹرپرائز لمٹیڈپہلے بڑے کارپوریشن بن گئے۔پلوامہ کے لاسی پورہ صنعتی علاقے میں 70 کنال اراضی (8.75ایکڑ)کا قبضہ پہلے جے ایس ڈبلیو سٹیل لمٹیڈ کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ 150 کروڑ روپے کا سٹیل پلانٹ لگایا جاسکے۔اِسی طرح اپولو ہسپتال جموں خطے میں 250بستروں کا ایک سپر سپیشلٹی ہسپتال قائم کر رہا ہے ۔ اِنتظامیہ نے پہلے ہی جموں کے میران صاحب میں ایک میڈی سٹی کے لئے 100کنال ) 12.5ایکڑ) مختص کی ہے جس میں ملک کے صحت شعبے کے اعلیٰ کارپوریٹس کو یہاں سرمایہ کاری کرنے کے لئے جگہ دی جائے گی۔کشمیر میں جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے سمپورہ میں 368کنال ( 46ایکڑ) پر میڈی سٹی بن رہا ہے کیوں کہ بہت سے گروپوں نے بھی میڈی سٹی میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے یکساں دِلچسپی ظاہر کی ہے ۔ اِنتظامی کونسل نے میڈی سٹی کے قیام کے لئے 750 کنال اراضی صنعت و حرفت محکمہ کے حق میں منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔ایس اے سی نے ایک بیان میں کہا کہ میڈی سٹی کے آپریشنل ہونے سے طبی ،فارما پیشہ ور اَفراد ، مقامی فارماسسٹ اور دکانداروں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے علاوہ اِس خطے میں عالمی معیار کا ہیلتھ کیئر بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات میسر آئیں گی۔صنعتی محکمہ کے ایک آفیسر نے کہا کہ وہ ماحول اور لوگوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہائی ٹیک سرمایہ کاری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ جموں وکشمیر یوٹی اِنتظامیہ تین دہائیوں کی ترقی کی کمی کو پورا کر رہی ہے اورزمینی سطح پر تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔ایل جی اِنتظامیہ ی طرف سے ماضی کے برعکس جموںوکشمیر کے نچلی سطح کے کارکنوں کو بااِختیار بنانے کو ترجیح دی گئی جس کی وزیرا عظم نے اَپنی تقریر میں تعریف کی۔ وزیر اعظم نے کہا،’’ جموںوکشمیر میں قومی پنچایتی راج دِن کی تقریب ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔‘‘وزیر اعظم نریندر مودی نے اِس بات پر پر گہرے اطمینان او رفخر کا اِظہار کیا کہ جموںوکشمیرمیں جمہوریت نے نچلی سطح تک رَسائی حاصل کی ہے ۔اُنہوں نے کہا،’’ جمہوریت ہو یا ترقی کا عزم ، آج جموںوکشمیر ایک نئی مثال پیش کر رہا ہے ۔ گذشتہ دو ۔ تین برسوں میں جموںوکشمیر میں ترقی کی نئی جہتیں پید ا ہوئی ہیں۔‘‘جموں و کشمیر میںاگست 2019 ء میں آئینی اصلاحات کے آغاز کے بعد سے، حکومت ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری ، حکمرانی میں خاطر خواہ بہتری لانے اورشہریوں کی معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے وسیع پیمانے پر اِصلاحات لانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جن پروجیکٹوں کا اِفتتاح اور سنگ بنیاد رکھاہے وہ بنیادی سہولیات کی فراہمی،موبائلٹی کی آسانی اور خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو یقینی بنانے میں ایک طویل سفر طے کریں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے زائد اَز 3,100 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ بانہال ۔قاضی گنڈ روڈ ٹنل کا اِفتتاح کیا۔ 8.45 کلومیٹر لمبی ٹنل بانہال۔قاضی گنڈ کے درمیان سڑک کی مسافت کو 16 کلومیٹر کم کرے گی اور سفر کے وقت میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی کمی کرے گی۔ یہ ٹنل جموں اور کشمیر کے درمیان ہمہ موسمی رابطہ قائم کرنے اور دونوں خطوں کو قریب لانے میں مدد دے گی۔وزیر اعظم نے دہلی۔امرتسر۔کٹراہ ایکسپریس وے کے تین سڑک پیکیجوںکا سنگ بنیاد رکھا، جوزائد اَز7,500 کروڑروپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے رتلے اور کوار ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ 850 میگاواٹ کا رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کشتواڑ ضلع میں دریائے چناب پر تقریباً 5,300 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ 540 میگاواٹ کا کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بھی ضلع کشتواڑ میں دریائے چناب پرزائد اَز4,500 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ دونوں منصوبے خطے کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔