جموں و کشمیر حکومت کا ’ ہر گاؤں ہریالی ‘ اقدام موسمیاتی انصاف کے فروغ کو یقینی بنا رہا ہے
سرینگر //حکومت جموں و کشمیر کی طرف سے شروع کی گئی ایک منفرد پہل ’ ہر گاؤں ہریالی ‘ پروگرام ’ گرین جموں و کشمیر ‘ مہم کے وژن کے ساتھ ہم آہنگی ، پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ یو ٹی بھر میں ماحولیاتی انصاف کو فروغ دینے کیلئے اہم ثابت ہوا ہے ۔ یہ مہتواکانکشی پروگرام خاص طور پر جموں و کشمیر کے تباہ شدہ جنگلات کے قریب واقع دیہاتوں میں کاربن کے ذخیرے کو بڑھانے میں بھی زبردست رول ادا کر رہا ہے ۔ گرین جموں اور کشمیر مہم خود نیشنل فارسٹ پالیسی 1988 اور جموں و کشمیر فاریسٹ پالیسی 2011 کے مطابق ہے جس میں جنگلات کے اندر اور باہر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تمام تنزلی شدہ اور منحرف زمینوں پر شجرکاری کا تصور کیا گیا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر منوج سنہا کے الفاظ میں ’ گرین جموں اور کشمیر ‘ مہم کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز خاص طور پر گاؤں کی پنچائتوں ، خواتین ، طلباء ، شہری مقامی اداروں ، این جی اوز اور سول سوسائٹی کی شمولیت کے ساتھ بڑے پیمانے پر عوامی تحریک پیدا کرنا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ ہمارا مقصد جموں و کشمیر کے دو تہائی جغرافیائی علاقے کو جنگلات اور درختوں کے احاطہ میں لانا ہے ۔جموں و کشمیر میں جنگلات اور درختوں کا احاطہ تقریباً 55 فیصد ہے ، جو کہ قومی اوسط 24.56 فیصد سے کافی زیادہ ہے ‘‘۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سال 2022-23 کیلئے 1.35 کروڑ پودے لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے ، جن میں سے 26.50 لاکھ پودے گاؤں پنچائت پلانٹیشن کمیٹیوں ( وی پی پی سیز ) کی فعال شمولیت کے ساتھ لگائے جائیں گے تا کہ گرام پنچائتوں میں سبز اثاثے بنائے جائیں ۔ حکومت کے زیر اہتمام شجرکاری مہموں میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر شرکت کو یقینی بنانے کیلئے حکومت اسکول کی سطح کے ایکو کلبوں ، ولیج پنچائت پلانٹیشن کمیٹیوں اور منریگا کے کاموں کو مختلف شجرکاری اور تحفظ کی مہموں سے جوڑنے کیلئے ایک کثیر الضابطہ کنور جنس ماڈل اپنا رہی ہے ۔ ہر گاؤں ہریالی کے تحت سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ایم جی نریگا اور محکمہ جنگلات کے شجرکاری پروگرام کے تحت فنڈز جمع کر کے ایک بڑے پیمانے پر کنور جنس پروگرام ہو رہا ہے ۔ ہریالی اور جنگلات اور درختوں کے احاطہ کو بڑھانے کے کم لاگت کے انداز کے تحت سال 2022-23 کے دوران 50 لاکھ سے زیادہ بیج /گھاس کے تخم لگائے جانے کا امکان ہے ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نیتی آیوگ نے اپنی ’ اسٹیٹ انرجی اینڈ کلایمیٹ انڈیکس ‘ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جموں اور کشمیر میں فی ہیکٹر جنگلاتی زمین پر 94.5 ٹن کاربن کا ذخیرہ ہے جبکہ انڈمان اور نکو بار 96.4 ٹن کاربن اسٹاک فی ہیکٹر کے ساتھ سرفہرست ہے ۔ کاربن اسٹاک سے مراد جنگلات میں بائیو ماس ، مٹی ، ڈیڈ ووڈ اور کوڑے کی شکل میں ذخیرہ شدہ کاربن کی مقدار ہے ۔ گرین کور اور کاربن اسٹاک میں اضافہ گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کیلئے ایک صحت مند رحجان کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ہندوستان کے جنگلاتی سروے کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں پچھلے تین برسوں میں جنگلات کے کل احاطہ میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے جنگلات میں کاربن کے اخراج کی شدت 98.2 ٹن فی ہیکٹر ہے ۔ سال 2022-23 کیلئے کیپٹل ایکسپینڈیچر ( سی اے پی ای ایکس ) کے تحت جنگلات ، ماحولیات کے شعبے کیلئے تقریباً 200.76 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ جو کہ پچھلے سال کے بجٹ مختص سے 9.01 کروڑ روپے زیادہ ہے ۔










