dooran

جموں وکشمیر میں 73ویں ترمیم کی عمل آوری سے جمہوری غیر مرکوزیت کا خواب پورا ہوا

پنچایتوں کیلئے منصوبہ بندی 2020-21 ء میں 5,136 کروڑ روپے سے دوگنی ہو کر 2021-22 ء میں 12,600 کروڑ روپے ہو گئی

سری نگر//جموںوکشمیر میں نچلی سطح کی جمہوریت کو بڑھانے کے لئے 73 ویں ترمیم کے تاریخی عمل آوری سے پنچایتی راج اِداروں کے ذریعے جمہوری غیر مرکوزیت کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں گرام سبھا کو پنچایت راج نظام کی بنیاد کے طور پر تصور کیا گیا ہے اور درج فہرست ذاتوں ، درج فہرست قبائل اور خواتین طبقات کو بااِختیار بنایا گیا ہے۔جموںوکشمیر میں اِختیارات کی غیر مرکوزیت نچلی سطح کے نمائندوں کو اَپنے متعلقہ علاقوں کی سیاسی ، اِقتصادی اور سماجی سرگرمیوں میں مؤثر طریقے سے حصہ لینے میں مد د دیتی ہے ۔ اِس سے لوگوں کی ضروریات کے لئے حکومت کی جواب دہی میں بھی اِضافہ ہوتا ہے۔ایک آفیسر نے کہا،’’ حکومت خدمات سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تک پہنچنے میں کامیاب ہے جس کے نتیجے میں حکمرانی اور ٹیکس کی وصولی کے پھیلائو میں اِضافہ ہوتا ہے ۔یہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کرتا ہے۔‘‘آزادانہ ، منصفانہ اور پُر اَمن پنچایتی اِنتخابات کے اِنعقاد سے جموںوکشمیر میں نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط بنانے کی تاریخ رقم کی گئی ۔ اِن پنچایتی اِنتخابات میں 74.1 فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ جموںوکشمیر میں پہلی بار تین درجے پنچایتی راج نظام کی بنیادرکھنے کے لئے کُل 3,650 سرپنچوں اور 23,660 پنچوں کو منتخب کیا گیا۔پنچایتی اِنتخابات کے کامیاب اِنعقاد کے بعد جموںوکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار بلاک ڈیولپمنٹ کونسلوں ( بی ڈی سیز) کے اِنتخابات کئے گئے ۔بی ڈی سی کے اِنتخابات میں 98.2 فیصد کی زبردست ووٹنگ ہوئی جس میں کُل 276 چیئر پرسن منتخب ہوئے۔ضلع ترقیاتی کونسل کے اِنتخابات بالآخر 8مرحلوں میں ہوئے جس میں 51.7 فیصد رائے دہند گان نے اَپنے حق رائے دہی کا اِستعمال کیا۔اِس عمل میں 20 ڈی ڈی سی چیئرپرسن اور 20وائس چیئرپرسن کے علاوہ کُل 278 ڈی ڈی سی ممبران کو بھی منتخب کیا گیا ۔ اِس طرح یہاں 3درجے پنچایتی راج نظام کے نفاذ کو مکمل کیا گیا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے سانبہ کے پالی گائوں میں اَپنی حالیہ خطاب میں جموںوکشمیر میں پنچایت دیوس کی تقریبات کو بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی سکیمیں اَب تیزی سے عملا ئی جارہی ہیںاور لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا رہے ہیں۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ جموںوکشمیر میں جمہوریت نچلی سطح تک پہنچ گئی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ جموںوکشمیر یوٹی میں تین درجے پنچایتی راج نظام اس وقت قائم ہوا جب لوگوں نے مجھے مرکز میں خدمت کرنے کا موقع دیا۔‘‘وزیر اعظم نریندرمودی نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر کے اَضلاع کو ان کی منتخب پنچایتوں کے ذریعے اِس برس 22,000 کروڑ ورپے کے فنڈس مختص کئے گئے ہیں جو کہ تین برس پہلے تک 5,000 کروڑ روپے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ اگست 2019ء سے حکومت حکمرانی میں خاطر خواہ بہتری لانے اور لوگوں کے لئے زندگی کی آسانی کو بڑھانے کے لئے وسیع پیمانے پر اِصلاحات لانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔مزید برآں، ایک حوصلہ اَفزا اقدام میں پنچایتوں کے لئے مختص منصوبہ بندی کو جموںوکشمیر میں 2020-21ء میں5,136 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2021-22ء میں 12,600 کروڑ روپے کیا گیا ہے۔منصوبہ بندی کا عمل آئینی مینڈیٹ کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام پنچایتوں کے منتخب نمائندوں کے لئے 25 لاکھ روپے کے اِنشورنس کور کا بھی اِنتظام کیا گیا ہے۔
پی آر آئی کے نمائندوں کی سکلز اور کارکردگی کو مزید بڑھانے کی کوشش میں سرپنچوں اور پنچوں کے لئے امپارڈ جیسے معروف تربیتی اداروں اور باہر کے اداروں میں بھی صلاحیت سازی اور تربیتی پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بی ڈی سی کے نومنتخب چیئرپرسنوں کے لئے اِنڈکشن کورسوں، ڈیجیٹل خواندگی کی تربیت، گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلان ٹریننگ اور ٹریننگ ورکشاپوں کا اِنعقاد کیا گیا ہے۔ تقریباً 750 منتخب نمائندوں کو جموںوکشمیر یوٹی کے باہر ٹریننگ کم ایکسپوزر وِزٹ فراہم کئے گئے ہیں۔آزادی کے بعد پہلی بار نچلی سطح کے منتخب نمائندوں کو یوم آزادی اور یوم جمہوریہ پر قومی پرچم لہرانے کے لئے رسمی پروٹوکول دیا گیا۔ منتخب نمائندوں کو ترجیحی بنیادوں پر باضابطہ مقام دیا گیا ہے اور ضلعی افسران کے پنچایتی نمائندوں کے ساتھ تعامل کا باقاعدہ نظام ادارہ بنا یا گیا ہے۔جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے کہا،’’ہم تین درجے پنچایتی راج کا مکمل نظام دیکھ رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ’’جن بھاگیداری‘‘ہماری طاقت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلی بار جموں و کشمیر میں تین درجے پنچایتی راج نظام کو لاگو کرکے جامع ترقی کی ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’29محکمانہ کام تمام پنچایتوں کو اور 7 محکموں کو شہری بلدیاتی اداروں کو منتقل کیاگیا ہے۔سال 2021 ء میں پہلی بار 12,600 کروڑ روپے کا ڈسٹرکٹ کیپیکس بجٹ پنچایتی راج نمائندوں کے فعال تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے 2020-21 ء میں یہ رقم د 5,136 کروڑ روپے تھی۔‘‘حال ہی میں تمام ڈی ڈی سی چیئرپرسن کی موجودگی میں اِس مالی برس کے لئے 22,126.93 کروڑ روپے کا تاریخی ڈسٹرکٹ کیپکس بجٹ گذشتہ برس سے زائد اَز 75فیصد جموں وکشمیریوٹی کی مساوی ترقی کے لئے منظور کیا گیا تھا۔دریں اثنا دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جموںکے راج بھون میں جموں وکشمیر کے پی آر آئی ممبران کو قومی پنچایت ایوارڈ 2022ء کے مختلف زمروں کے تحت قومی پنچایت ایوارڈوں سے نوازا تاکہ جموں و کشمیر میں پنچایتی راج نظام کو مضبوط کرنااور ان کے عظیم کام کی حوصلہ اَفزائی کی جاسکے ۔