جموں وکشمیر میں 48,000ایس ایچ جیز میں 4لاکھ خواتین کی شمولیت نے کار خانہ داری میں اِنقلاب لایا

سری نگر//جموںوکشمیر میں سرمایہ تک آسان رَسائی سے جموں وکشمیر رورل لائیو لی ہڈس مشن ( اُمید) کے تحت زائد اَز 48,000 سیلف ہیلپ گروپس ( ایس ایچ جیز) میں چار لاکھ خواتین کی شمولیت نے نچلی سطح پر خواتین کی کار خانہ داری صلاحیت میں اِنقلاب لایا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی زیر قیادت جموں وکشمیر حکومت سرمایہ تک رَسائی ، دوبارہ ہنر مندی ، نئی ہنر مندی کے لئے معیاری رہنمائی فراہم کرنے اور ایس ایچ جیز کی خواتین کاروباریوں کو نئی منڈیوں تک پہنچنے میں مدد کرنے کی خاطر پُر عزم ہے۔ایک سرکاری ترجمان نے کہا ،’’حکومت نے کاروبار کو بڑھانے اور خواتین کی ایک مضبوط اَفرادی قوت کی تعمیر کے لئے مربوط ، اشتراک اور اِختراع کرنے کے لئے خواتین کاروبار ی ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لئے ایک جامع نقطہ نظر اَپنایا ہے ۔‘‘جموں وکشمیر میں بااِختیار اَفراد پیدا کرنے کے لئے خواتین اور نوجوانوں کے لئے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جارہا ہے ۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا ،’’ ان کے پاس ذہین کاروباری اِدارے بنانے اور اَپنے اِرد گرد کی کمیونٹی کو غیر معمولی طریقوں سے تشکیل دینے کے لئے وسائل دستیاب ہیں۔‘‘ خواتین کو’’ ساتھ ‘‘ ، ’’ اُمید ‘‘ ، ’’ ممکن ‘‘ ، ’’ حوصلہ ‘‘ ، ’’ تیجسوینی جیسے اِقدامات سماجی او راِقتصادی طور پر خود مختار بنا رہے ہیں۔اِس کے علاوہ جے کے آر ایل ایم پروگرام جموںوکشمیر کی دیہی خواتین کی زندگیوں کو بد ل رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے دیہی خواتین کو خود اِنحصار بنانے میں مدد کرنے کے لئے یکم ستمبر 2021ء کو فلیگ شپ پروگراموں میں سے ایک پروگرام ’’ ساتھ ‘‘ شروع کیا گیا تھا۔جے کے آر ایل ایم نے ’’ساتھ پروگرام ‘‘ کے تحت منتخب ایس ایچ جی اراکین کے لئے ایک جامع رہنمائی کا پروگرام شروع کیا تھا جنہوں نے ’’ ساتھ پروگرام‘‘ کے تحت اَنٹر پرائزز قائم کئے تھے۔پروگرام کے تحت ایس ایچ جی کے اراکین کو مختلف مارکیٹنگ عمل سے روشنا س کیا جارہا ہے جس سے وہ اَپنے موجودہ اِداروں کو اَچھی طرح سے قائم کر کے بڑے کاروباری اِداروں میں تبدیل کر سکیں گے ۔ ایس ایچ جی کاروباری اَفراد کو ان کی پیداوار اور فروخت کو بڑھانے کے لئے ویلیو ایڈیشن ، مارکیٹنگ ، برانڈنگ ، فار ورڈ لنکیجز ، سیلز او ربزنس مینجمنٹ میں سہولیت فراہم کی جار ہی ہے ۔وسیع مشاہدات کے بعد5,000 سیلف ہیلپ گروپس اراکین میں سے 100 خواتین کار خانہ داروں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں مخصوص تجارتی شعبے میں اَپنی مسابقت اور حصہ داری بڑھانے کے لئے رہنمائی سے اعلیٰ سطح کے کاروباری اِداروں کی ترقی میں مدد فراہم کی جار ہی ہے۔اِن اقدامات نے تقریباً5 لاکھ دیہی خواتین کو زائد اَز 60,000 ایس ایچ جیز میں فیڈریشن کر کے غربت کے خاتمے میں اہم کردار اَدا کیا ہے جن میں سے ایک لاکھ دیہی خواتین کو مالی برس 2021-22 ء کے دوران ایس ایچ جیز میں شامل کیا گیا ہے ۔جے کے آر ایل ایم نے تقریباً پانچ لاکھ دیہی سیلف ہیلف گروپس ممبران کو اَپنی مصنوعات کی نمائش کے لئے اور صارفین کے ساتھ ساتھ خریداروں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک مارکیٹ لنکیج پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے اَپنی نوعیت کا پہلا’’ اُمید وومنز ہاٹ‘‘ قائم کیا تھا۔ جے کے آر ایل ایم کی طرف سے’ اُمید وومنز ہاٹ ‘خواتین کو بااِختیار بنانے کا ایک پہل ہے جس سے دیہی خواتین ایس ایچ جی ممبران کو ایک پلیٹ فارم کے نیچے لایا جاسکتا ہے جہاں وہ اَپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ ، اَپنی مصنوعات کو فروخت اور مارکیٹ پلیئروں کے ساتھ روابط استوار کرسکتی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے سکیم کے آغاز کے موقعہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تیار کردہ پلیٹ فارم ’’ ساتھ ‘‘ دیہی اور سیمی اربن علاقوں میں خواتین کی سماجی و اِقتصادی ترقی میں اہم کردار اَدا کرے گا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں کاروباری ماحولیات کو پروان چڑھانے کے علاوہ جموںوکشمیر موجودہ کاروباری اِداروں کو دیہی معاش مشن کے تحت ہنر مندی ، رہنمائی اور مارکیٹ روابط سے دیرپا ، اعلیٰ پیداواری منصوبوں میں پروان چڑھائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین کی معاشی آزادی میں خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک اہم اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی حکومت کا مقصد جموں وکشمیر کی خواتین کو ملازمت تلاش کرنے کے بجائے روزگار دینے والا بنانا ہے اور جموں وکشمیر حکومت کے جی ڈی پی میں خواتین کاروباریوں کی شراکت کو بڑھانا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ ہم جموںوکشمیر میں خواتین کاروباریوں کے مسلسل اِضافہ کا مشاہدہ کر رہے ہیں ، نوجوان کاروباری کئی طریقوں سے معاشرے کو تبدیل کر رہے ہیں اور دوسروں کے لئے معاشی تحفظ اور خوشحالی کو یقینی بنا رہے ہیں۔‘‘