Awareness

جموں وکشمیر میں’’ ویجی لنس بیداری ہفتہ ‘‘کی تقریبات اِختتام پذیر

حکومت احتیاطی، شراکتی اور تادیبی نگرانی سمیت ایک جامع نقطہ نظر کو فروغ دے گی۔ چیف سیکرٹری

جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے آج اِنتظامی سیکرٹریوں کی ایک میٹنگ کی صدارت کی اور ویجی لنس ہفتہ کے دوران کی گئی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ حکومت گورننس میں شفافیت اور جوابدہی لانے کے لئے احتیاطی اور شراکتی دونوں نگرانی کو فروغ دینے کے لئے بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے۔میٹنگ میں ڈائریکٹر جنرل پولیس، مختلف محکموں کے تمام اِنتظامی سیکرٹریوں، تمام اَضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں اور ایس ایس پیز نے شرکت کی۔کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے چیف سیکرٹری کو بتایا کہ ملک میں سب سے زیادہ 1075 اِی۔ خدمات کے ذریعے حکومت سے شہریوں کے درمیان رابطے کو زیادہ شفاف اور قابلِ رسائی بنانے کے حکومت کے عزم کے ساتھ ساتھ موبائل دوست، ریپڈ اسسمنٹ سسٹم، اِی ۔خدمات کی گھر تک فراہمی کے لئے ڈیجی دوست، خدمات کو ڈیجی لاکر سے جوڑنے جیسے متعلقہ آئی ٹی اَقدامات کے بعد رشوت ستانی کو کم کرنے میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ آن لائن طریقے سے مختلف خدمات حاصل کرنے کے لئے 52 لاکھ سے زیادہ درخواستوں پر کارروائی کی گئی ہے جن میں سے 42 لاکھ سے زیادہ کو نمٹا یا گیا ہے۔آن لائن خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اِی ۔ خدمات کو بتدریج پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ (پی ایس جی اے) کے تحت آٹواپیل سسٹم (اے اے ایس) سے منسلک کیا جا رہا ہے جس سے ڈیفالٹ افسر کے خلاف کارروائی کے لئے ٹائم لائن کی خلاف ورزی کے معاملوں کو اگلی اتھارٹی تک پہنچائے گا۔ اَب تک تقریباً 64,000 اپیلیں تیار کی جا چکی ہیںجن میں سے 32,000 اپیلیں نمٹا دی گئی ہیں۔ اِس کے علاوہ محکمہ ریونیو میں مختلف خدمات کی فراہمی میں تاخیر کرنے والے 55 اَفسروںکے خلاف جرمانے کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔حکومت نے آن لائن موڈ میں غیر معمولی تبدیلیوں کی شکایات کو دور کرنے کے لئے اِس طرح کے جوابات کا تجزیہ شروع کیا ہے اور غیر منصفانہ جوابات کی جانچ کی جائے گی اور نادہندہ افسران کو سزا دی جائے گی۔ڈاکٹر ارون کمارمہتا نے شراکتی نگرانی کو فروغ دینے کے اَقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جن بھاگیداری آن لائن پورٹل جیسے اَقدامات جو شہریوں کو اس خطے میں انجام پانے والے تمام ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور جائزہ لینے کی اِجازت دیتا ہے۔ یہ خصوصی پورٹل ترقیاتی کاموں سے متعلق معلومات تک آسان رسائی کی سہولیت فراہم کرنے اور ایسے منصوبوں پر عمل درآمد میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔چیف سیکرٹری نے صوابدیدی اختیار کے غلط استعمال کو روکنے میں مالی نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بی اِی اے ایم ایس اور پے سسٹم سے منسلک ڈیجیٹل ادائیگیوں کے کام کو اُجاگر کیا۔حکومت نے اِن اَقدامات کے ساتھ مل کرجموں وکشمیر یوٹی میں 55 فلیگ شپ سکیموں کے تحت خصوصی طور پر ڈی بی ٹی موڈ کے ذریعے مالی امداد کی صد فیصد تقسیم حاصل کی ہے۔مالی برس-23 2022ء میں اِی۔ ٹینڈرنگ کو لازمی، پیشگی تکنیکی اور اِنتظامی منظوری کے ساتھ سخت نفاذ کرنے سے 92,000 سے زائد کام مکمل کئے گئے جو اَب تک کی سب سے زیادہ ہے۔پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (فوڈ سپلائیز) میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے جس میں پی او ایس مشینوں کے ذریعے تقسیم کی طرف منتقلی کی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ این ایف ایس اے اور نان۔ این ایف ایس اے دونوں زمروں کے تحت راشن کارڈ اور فائدہ اُٹھانے والوں کی سطح پر صد فیصد آدھار سیڈنگ حاصل کی گئی ہے۔ اِس عمل نے محکمہ کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ تقریباً 11.5 لاکھ اَفراد کو راشن کارڈ کے ڈیٹا بیس سے ہٹا نے کی مشق کے تحت نکال سکے۔ اِس کوشش سے سالانہ 230.00 کروڑ روپے مالیت کے 1.6 لاکھ میٹرک ٹن اناج کی بچت ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی ڈی ایس میں تقریباً 90,000 حقیقی گھرانوں کو شامل کیا گیا۔محکمہ ریونیو میں ’’آپکی زمین آپکی نگرانی‘‘پورٹل (لینڈ اِنفارمیشن مینجمنٹ سسٹم) نے لینڈ پاس بکس سے زمین کے ریکارڈ تک آسان رسائی کی سہولیت فراہم کی ہے جس میں اکاؤنٹ نمبر، خسرہ نمبر، زمین کی قسم، زمین کے مالک، کاشت کار، جنس وغیرہ کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ گذشتہ برس کے دوران تمام اَضلاع میں لینڈ پاس بک کا اجرأ مکمل کیا گیا۔ مزید برآں، ریونیو ریکارڈ کی ڈیمسٹی فکیشن کا کام شروع کیا گیا ہے جس سے شہریوں کو اَپنے اراضی کے ریکارڈ کے بارے میں قابل فہم معلومات حاصل کرنے کی اجازت ملی ہے۔میٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اینٹی کورپشن بیورو (اے سی بی) حالیہ برسوں میں رشوت ستانی کے خلاف تادیبی اَقدامات کو مضبوط بنانے کے لئے انتھک محنت کر رہا ہے جس کے نتیجے میں 2021 ء سے اَب تک ایف آئی آر درج کئے گئے کُل 276 مقدمات میں سے 142 پر کامیابی سے مقدمہ چلایا گیا ہے۔ بیورو نے یو ٹی میں بدعنوان اَفسروں کے خلاف 121 ٹریپ معاملات اور 29 غیر متناسب اثاثہ جات (ڈی اے) مقدمات درج کرنے میں بھی چوکس رہا ہے۔