جموں وکشمیر میں اونی صنعت بحالیاتی ڈگر پر رواں دواں

سری نگر//جموں و کشمیر حکومت جموں و کشمیر یوٹی میں اونی صنعت کو بڑے پیمانے پرفروغ دینے کے لئے ایک جامع فریم ورک تشکیل دے رہی ہے۔جموںوکشمیر یوٹی حکومت کی اِصلاحی پالیسیاں جموںوکشمیر میں اونی صنعت سے وابستہ تقریباً50,000کنبوں کو معاشی ترقی کے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔اِس شعبے کو فروغ دینے کے لئے گورنمنٹ وولن مِلز بمنہ میں ایک شو روم کم اِنٹرپریٹیشن سینٹر عالمی بینک کی مالی معاونت سے جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ ( جے ٹی آر ایف پی ) کے تحت قائم کیا گیا جس کا لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے حال ہی میں اِفتتاح کیا۔یہ شو روم سالانہ 80,000 کلو گرام اون کی براہِ راست مارکیٹ فراہم کرے گا جس سے تقریباً 1,600 پشو پالن کنبوں کو فائدہ ہوگا ۔نیا شو روم کم انٹرپریٹیشن سینٹر جموں و کشمیر کے ہزاروں اون پیدا کرنے والے کسانوں کو مارکیٹ کے مواقع فراہم کرنے اورمِل میں کام کرنے والے لوگوں کی روزی روٹی کے مواقع پر بہت زیادہ اثر ڈالے گا۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ جموںوکشمیر ملک میں اون پیدا کرنے والا دوسرے نمبرپر ہے جو سالانہ تقریباً 70 لاکھ کلو گرام اون پیدا کرتا ہے۔ایک آفیسر نے کہا،’’ جموںوکشمیر اِنڈسٹری نے اِی ۔ مارکیٹنگ چینل کے طور پر سلک مارک آرگنائزیشن آف اِنڈیا ( ایس ایم او آئی ) سے اِی ۔کامرس پلیٹ ’’ ایمزون ‘‘ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ۔ جی اِی ایم پورٹل پر رجسٹریشن مکمل ہوگیا تھا اور پروفیشنل کیٹلاگ اور بروشر بھی تیار کئے گئے تھے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مارکیٹ کے رجحانات اور فیشن کے مطابق نئی مصنوعات کی رینج تیار کرنے کے لئے معروف ڈیزائنروں کو شامل کیا جارہا ہے ۔واضح رہے کہ اون واحد قدرتی ریشہ ہے جس کی قوم میں کمی ہے ۔ ایک مناسب پروسسنگ ، گریڈنگ ، مارکیٹنگ اور قیمت میں اِضافہ اِس سے نمٹنے والے کسانوں کی قسمت بدل دے گا۔ملک میں اون کی مقامی پیداوار مناسب نہیں ہے اور صنعتی انحصار درآمدات پر ہے ۔ ملک میں اون کی درآمد سالانہ 77 ملین کلو گرام ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اتل ڈولونے جموںوکشمیر میں اون کی صنعتی احیاء سے متعلق ایک حالیہ میٹنگ میںکہا ہے کہ پروسسنگ یونٹس کی تنصیب سے مل کر اُون کی کافی پیداوار میںجموںوکشمیر یوٹی کی معیشت کو تقویت ملے گی۔