نیشنل کانفرنس پی ڈی پی کو مائنس کر کے کانگریس کے ساتھ اتحاد کے حق میں
سرینگر//انڈیا اتحاد کی بنیادیں جموں وکشمیرمیں کھوکھلے پی ڈی پی کومائنس کرکے نیشنل کانفرنس کشمیرکی تینوں سیٹوں پراپنے امیدوار اتارنے کے لئے کانگریس کے ساتھ مفاہمت کرنے کے موڑ میں تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٓین سی وادی کی تین سیٹوں میں کسی ایک سیٹ سے دست بردا ر ہونے کے لئے تیا رنہیں اور پی ڈی کوانڈیااتحاد سے دو ررکھنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کامانناہے کہ انڈیا اتحاد جموں وکشمیرمیں نہ پھولے گانہ پھلے گااور اس کی سب سے بڑی وجہ نیشنل کانفرنس بنے گی جو کسی بھی صورت میں صوبہ کشمیرکی تین سیٹوں سے دست بردار نہیں ہوناچاہتی ہے ا ور نائب صدر عمر عبداللہ نے اس بات کاانکشاف کیاکہ وہ انڈیاانتحاد کاحصہ ہے اور سیٹوں کی تقسیم کاری کے سلسلے میں بات چیت آخری مرحلے میںہے جب کہ ان کے والدڈاکٹرفاروق عبداللہ نے ایک خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگوکے دوران کہاکہ این سی انڈیااتحاد کے تلے پارلیمنٹ کاالیکشن لڑے گی اوراتحاد وقت کی اہم ضرور ت ہے تاہم اشاروں او رکنائیوں میں انہوں نے پھریہ عندیہ دیاکہ اننت ناگ سرینگر اور بارہمولہ پارلیمانی حلقوں سے این سی دست بردا رہونے کے لئے تیار نہیں ۔مرکزی زیر انتظام علاقے لداخ کی ایک سیٹ پرکانگریس او راین سی کے مابین تنا تناؤ برابر ہے۔ نیشنل کانفرنس نے ہل ڈیولپمنٹ کونسل میں بارہ سیٹیں حاصل کی او رکانگریس نے دس کانگریس کادعویٰ ہے کہ یہ سیٹ کوملے تاہم کانگریس اس سیٹ پرامیدوار نامزد کرنے پربضد ہے ۔این سی کانگریس کوجموں کی دو سیٹوں پرحمایت دینے کے لئے تیار ہے اور صوبہ کشمیر میں وہ کانگریس سے حمایت چاہتی ہے او رپی ڈی پی کوسائڈ لائن کرناچاہتی ہے ۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرکانگریس اور این سی کے مابین معاہدہ ہوااو رپی ڈی پی کوسائیڈ لائن کیاگیا تو جموںو کشمیرکی پانچوں سیٹوں پر این ڈی اے اتحاد کو کامیابی ملے گی۔ کانگریس نیشنل کانفرنس کے اتحاد کو وادی کشمیر اور جمو ںکے پونچھ راجوری اسمبلی حلقوں میں پی ڈی کی جانب سے بہت بڑا جھٹکاملے گا ۔تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیااتحاد کی بنیادی جموںو کشمیرمیں کھوکھلی ہے او راین سی جس سیاسی داو پیش کامظاہراہ کررہی ہے وہ ا س با ت کی غماز ہے کہ یہ پارٹی اپنی بالادستی قائم کرنے کے موڑ میں ہے ۔عوامی میں ا سکی پذ رائے ہے یانہیں وہ اس کی طرف کوئی توجہ مرکوز نہیں کئے ہوئے ہے ۔ادھرپی ڈی دی مسلسل خاموش تماشائی بنی ہوئے وہ کانگریس کی سرگرمیوں کابغو رجائزہ لے رہی ہے اور آخری وقت پر اپنے پتے کھولنے کے موڑ میں ہے ۔










