بہتر روزگار پیدا کرنے کی پہل ، مقامی پروڈیوسروں کو عالمی سطح پر جانے کی ترغیب دی
سری نگر//جموںوکشمیر حکومت مینو فیکچرنگ اور برآمدات کو فروغ دینے کی اَپنی کوششوں میں پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسسنگ اَنٹرپرائزز ( پی ایم ایف ایم اِی ) سکیم کے تحت ’’ وَن ڈسٹرکٹ وَن پروڈکٹ ‘‘ کو آگے بڑھانے کے لئے بہتر مارکیٹنگ ، تکنیکی اِختراعات ، جدید ترین ڈیزائن مخصوص اِقدامات کے طریقے سے کام کر رہی ہے۔جموں وکشمیر میں پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسسنگ اَنٹرپرائزز ( پی ایم ایف ایم اِی ) سکیم کے تحت ’’ وَن ڈسٹرکٹ وَن پروڈکٹ‘‘کی فہرست کو مختلف شراکت داروں سے موصول ہونے والے تاثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے حتمی شکل دی گئی ۔ منظور شدہ فہرست میں جموںصوبہ کو ڈیری مصنوعات کے لئے مصالحے کے لئے راجوری ، گوشت اور پولٹری پروسسنگ کے لئے پونچھ ، اخروٹ پروسسنگ کے لئے کشتواڑ اور ڈوڈہ ، شہد کی پروسسنگ کے لئے رام بن ، اچار اور جام کے لئے اودھمپور ، نامیاتی سبزیوں کے لئے رِیاسی ، مسالوں کے لئے کٹھوعہ اور مشروم کے لئے سانبہ شامل کیا گیا ہے۔
کشمیر صوبہ کے لئے منظور شدہ فہرست میں ٹرائوٹ مچھلی کے لئے اننت ناگ ، زعفران کے لئے پلوامہ ، سیب کے لئے شوپیان ، سیب اور مصالحے کے لئے کولگام ، پھولوں کے لئے سری نگر، غیر ملکی سبزیوں کے لئے بڈگام ،دودھ کی مصنوعات کے لئے بارہمولہ ،اخروٹ کے لئے کپواڑہ ، شہد کے لئے گاندربل ، پراسیس شدہ پولٹری اور گوشت کے لئے بانڈی پورہ کو شامل کیا گیا ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جموںوکشمیر حکومت نے مرکزی طور پر سپانسر شدہ اقدام’’ وَن ڈسٹرکٹ وَن پروڈکٹ ‘‘ ( او ڈی او پی ) پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسسنگ اَنٹرپرائزز ( پی ایم ایف ایم اِی ) سکیم کے تحت شروع کیا جو جموںوکشمیر یوٹی میں مائیکرو فوڈ پروسسنگ صنعتی شعبے کو فروغ دینے لئے اتما نر بھر بھارت ابھیان ( اے بی اے ) کا ایک جزو ہے ۔ مرکزی حکومت نے وَن ڈسٹرکٹ وَن پروڈکٹ ‘‘ ( او ڈی او پی ) سکیم کو 2020ء میں متعارف کیا ہے تاکہ روایتی طور پر تیار شدہ دیسی مصنوعات کو ان کی ترویج اور برآمد کوفروغ دیا جاسکے۔ اِس اہم سکیم کو شروع کرنے کا مقصد متوازن علاقائی ترقی کو فروغ دینا ، مجموعی سماجی و اِقتصادی ترقی کو قابل بنانا ، برآمدات کو بڑھانا اور سرمایہ کاری کی حوصلہ اَفزائی کرنا ہے۔
یہ اِختراعی اقدام روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے، ایک ماحولیاتی نظام کی تشکیل کرنے اور کامیابی کو فروغ دیتا ہے اور مقامی پروڈیو سروں کو جموںوکشمیر میں عالمی سطح پر جانے کی ترغیب دیتا ہے ۔یہ سکیم جموںوکشمیر میں زرعی فصلوں کے کلسٹروں ، زرعی برآمدی پالیسی اور نیشنل روبن مشن کے ذریعے حکومت کی موجودہ پرومویشنل کوششوں کی بھی تکمیل کر رہی ہے ۔پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسسنگ اَنٹرپرائزز ( پی ایم ایف ایم اِی ) سکیم60 فیصد کی مرکزی فنڈنگ اور 40 فیصد کی رِیاستی فنڈنگ کے ساتھ عملایا جارہا ہے۔غیر مائیکرو فوڈ پروسسنگ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اِس شعبے کو باضابطہ طور پر فروغ دینے کے لئے زبردست کام کر رہا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے جموںوکشمیر کی اِنتظامیہ کی طرف سے شروع کئے گئے مختلف اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم مالیاتی مصنوعات تک لوگوں کی رَسائی کو بڑھا رہے ہیں ، وَن ڈسٹرکٹ وَن پروڈکٹ کو فروغ دے رہے ہیں اورخواتین ، نوجوانوں ، ایس ایم ایز ، دستکاریوں ، باغبانی اور دیگر ترجیحی شعبے کو اِدارہ جاتی قرضہ دے رہے ہیں۔مرکزی وزیر فوڈ پروسسنگ اِنڈسٹری پشو پتی کمار پارس نے حال ہی میں مرکزی معاونت والی سکیم پی ایم ایف ایم اِی کے تحت’’ وَن ڈسٹرکٹ۔ وَن پروڈکٹ ( او ڈی او پی ) حکمت عملی کے حصے کے طور پر کشمیر ی مرچ سمیت چھ برانڈس کی نقاب کشائی کی۔اِس سکیم کے تحت کشمیری اخروٹ کی پہلی کھیپ کو حال ہی میں بڈگام سے ہری جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا گیا تھا۔ مرکزی وزارتِ صنعت و حرفت کے وَن ڈسٹرکٹ ۔ وَن پروڈکٹ( او ڈی او پی ) اقدام کے تحت 2,000 کلوگرام اخروٹ لے کر ایک ٹرک بنگلورو روانہ کیا گیا۔ اِس پروڈکٹ کے مقامی اور عالمی منڈیوں میں اَپنی جگہ بنانے کے بے پناہ اِمکانات ہیں۔ وَن ڈسٹرکٹ ۔ وَن پروڈکٹ( او ڈی او پی )پروگرام کے اِبتدائی مرحلے کے تحت 27 رِیاستوں کے 103 اَضلاع سے 106 مصنوعات کی شناخت کی گئی ہے اور 106 مصنوعات میں سے 68 مصنوعات بڑے اِی ۔ کامرس پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔










