بہتر شہری سہولیات کیلئے ٹیکس لاگوکئے بغیردوسرا کوئی چارہ نہیں تھا:صوبائی کمشنر کشمیر
سری نگر//ڈویژنل کمشنر کشمیر وجے کمار بیدھوری کا کہنا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس سال میں صرف ایک بار ادا کرنا ہو گاجبکہ کمشنر میونسل کارپوریشن اطہر عامر خان نے کہاکہ میونسپل کارپوریشن، کمیٹیوں کے کھاتوں میں موجود رقم صرف ترقیاتی مقصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔جے کے این ایس کے مطابق یکم اپریل2023سے لاگو ہونے والے پراپرٹی ٹیکس سے متعلق پائے جانے والے خدشات کودُور کرتے ہوئے صوبائی کمشنر کشمیر وجے کمار بیدھوری نے ہفتے کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس لوگوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے لگایا جا رہا ہے۔سری نگر کے ٹی آرسی میٹنگ ہال میں کمشنر میونسل کارپوریشن اطہر عامر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنر کشمیر وجے کمار بیدھوری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس لوگوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جموں وکشمیر کی ایک تہائی آبادی پہلے ہی پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ ان کی جائیداد کا رقبہ1000مربع فٹ سے کم ہے،اور پراپرٹی ٹیکس اسے زیادہ رقبے پر موجود مکان اوردکان پر ہی لاگو کیاجائے گا۔ڈویژنل کمشنر کشمیرنے مزید کہا کہ جموں و کشمیر ملک میں آخری نمبر پر ہے جہاں پر پراپرٹی ٹیکس لگایا جا رہا ہے،اور یہاں دیگر مقامات کے برعکس پراپرٹی ٹیکس بہت کم لگایاجارہ ہے۔انہوںنے کہاکہ پراپرٹی ٹیکس ان لوگوں سے وصول کیا جائے گا جن کے گھر 1500 مربع فٹ سے زیادہ پر بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس سال میں صرف ایک بار ادا کرنا ہوگا۔ڈویژنل کمشنر کشمیر وجے کمار بیدھوری نے مزید کہا کہ پراپرٹی ٹیکس سے جمو ہونے والی رقم عوامی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کی جائے گی اور یہ رقم صرف میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹیوں کے کھاتے میں رہے گی۔ وجے کمار بیدھوری نے مزید کہا کہ پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہوگاتاکہ ان کیلئے بہتر سہولیات کو یقینی بنایاجائے۔اس موقعہ پر کمشنر میونسل کارپوریشن اطہر عامر خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اپریل2023 سے عوام سے جو ٹیکس وصول کیا جائے گا، اسے لوگوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سری نگر میونسپل کارپوریشن کی موجودہ آمدنی اس کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 10 فیصد ہے۔کمشنر موصوف نے کہاکہ پراپرٹی ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے لوگوں کو بہتر خدمات اور سہولیات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کیونکہ ٹیکس کو مرکزی یا ریاستی حکومت کو منتقل نہیں کیا جا سکتا اور اسے صرف ترقیاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔










