جموں وکشمیر میں گذشتہ چند برسوں میں 84 سٹارٹ اَپس قائم ہوئے
سری نگر//جموںوکشمیر نے سٹارٹ اَپ نظام کو تقویت بخشنے کے لئے مختلف شمال مشرقی ریاستوں اور یوٹیز کی رینکنگ میں اوّل مقام حاصل کیا ہے۔یہ بات قومی راجدھانی میںمرکزی وزیر صنعت و حرفت ، امورِ صارفین ، خوراک اور عوامی تقسیم و ٹیکسٹائل پیوش گوئل سے جاری کردہ ’’ رینکنگ آف سٹیٹس آن سپورٹ ٹوسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم ‘‘ کے تیسرے ایڈیشن کے نتائج میں سامنے آئی ہے۔رِپورٹ کے مطابق ریاستوں اور یوٹیز کو پانچ زمروں میں بشمول بہترین کارکردگی ، اعلیٰ کارکردگی ، لیڈران ، اسپرینگ لیڈراناور اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم درجہ بندی کیا گیا ہے۔جموںوکشمیر یوٹی جسے یوٹیز اور شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ ملایا گیا ہے جن میں وہ ریاستیں بھی شامل ہیں جن کی آبادی ایک کروڑ سے کم ہے۔جموںوکشمیر حکومت نے 2018ء میں ایک مکمل سٹارٹ اَپ پالیسی جاری کی جس کا مقصد اگلے دس برسوں کے دوران جموں وکشمیر میں کم سے کم 500 نئے سٹارٹ اَپس کے قیام کی حمایت اور پرداخت کرنا ہے ۔گذشتہ چند برسوں میں جموںوکشمیر میں 84 سٹارٹ اَپس قائم کئے گئے ہیں۔درجہ بندی اُبھرتے ہوئے کاروباری اَفراد کو فروغ دینے کے لئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کی ترقی کے لئے کئے گئے اَقدامات پر مبنی ہے۔اِس مشق کا مقصد ریاستوں اور یوٹیز کو ان کے سٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کی ترقی اور ایک دوسرے کے بہترین طریقوں سے سیکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے ۔اِس مشق میں کل 24رِیاستوں اور 7 یوٹیز نے حصہ لیا جس نے انہیں پانچ زمروں بشمول بہترین کارکردگی ، اعلیٰ کارکردگی ، لیڈران ، اسپرینگ لیڈراناور اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کے تحت درجہ بندی کیا۔رِیاستوں اور یوٹیز کو بھی ایک کروڑ سے کم آبادی کی بنیاد پر ان پانچ زمروں کے تحت درجہ بندی کیا گیا تھا۔کیرالہ ، مہاراشٹر ، اڑیسہ ، تلنگانہ اور جموں وکشمیر کو ٹاپ پرفارمروں کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ۔ پنجاب ، تامل ناڈو ، اُترا کھنڈ ، اتر پردیش ، اِنڈومان او رنکوبار جزائر ، اروناچل پردیش اور گوا لیڈروں کے زُمرے میں ہیں۔اسپرینگ رہنمائوں کے زُمرے میں ریاستیں اور یوٹیز میں چھتیس گڈھ ، دہلی ، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چندی گڈھ ، پڈو چیری اور ناگا لینڈ شامل ہیں۔درجہ بندی کے مطابق اُبھرتے ہوئے سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کے زمرے میں آندھرا پردیش ، بہار ، میزورم اور لداخ شامل ہیں۔ا ن کا جائزہ سات اِصلاحاتی شعبوں میں کیا گیا جس میں 26 ایکشن پوائنٹس شامل ہیں جن میں اِدارہ جاتی تعاون ، اختراع کو فروغ دینا، مارکیٹ تک رَسائی،انکیو بیشن اور فنڈنگ سپورٹ شامل ہیں۔پیوش گوئل نے ایوارڈوں کا اعلان کرنے بعد اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس ( او این ڈی سی ) میں ہزاروں سٹارٹ اَپس کو قائم کرنے کی طاقت ہے۔مرکزی وزیر نے کہا،’’ بھارت میں یو پی آئی کی بڑی کامیابی ہے جس نے ہندوستان میں ادائیگی کے نظام کو جمہوری بنایا ہے ۔ اگلے پانچ برسوں میں ہمارے پاس او این ڈی سی پورے ہندوستان میں اِی ۔ کامرس کو جمہوری بنائے گا۔ اتنا زیادہ کہ ہمارے پاس چند ہزار سٹارٹ اَپس زیادہ ہوں گے۔بجائے اس کے تین کمپنیاں 100بلین یا ایک ٹریلین سائز کی ہوں ، آپ کے پاس ایک بلین ڈالر میں سے ایک ہزار کمپنیاں ہوں گی۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ او این ڈی سی کے پاس یہی کرنے کی طاقت ہے۔سیکرٹری ڈی پی آئی آئی ٹی انوراگ جین نے کہا کہ حکومت کے متعدد اِقدامات بشمول جے اے ایم ( جن دھن ، آدھار ، موبائل) ،ڈیجیٹل اِنڈیا ، گتی شکتی ، کاروبار کرنے میں آسانی ، پورے ہندوستان میں سٹارٹ اَ پ ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا ،’’ اگر سٹارٹ اَپ سسٹم کو مزید بڑھنا ہے تو سب سے بڑا رول رِیاستوں کو اَدا کرنا ہوگا ۔ ہم سہولیت کار کا کردار اَدا کرسکتے ہیں۔‘‘جموںوکشمیر اِنتظامیہ سٹارٹ اَپس کی حوصلہ اَفزائی اور اختراع کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہی ہے جس سے یوٹی کے معاشی گراف کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے وافر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔جموںوکشمیر حکومت اِس شاندار کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ان اہم شعبوں میں سٹارٹ اَپس کو بھرپور طریقے سے فروغ دے کر فوڈ پروسسنگ ، زراعت ، قابل تجدید توانائی ، ہینڈی کرافٹس اور ہینڈ لوم جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سٹارٹ اَپس کو معاشی ترقی کی طرف گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شاندار خیالات اور حل کے لئے انکیوبشن اور سیڈ فنڈنگ سپورٹ فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے ۔اُنہوں نے کہا،’’ ہمارا مقصد جموںوکشمیر میں اختراعات اور سٹارٹ اَپس کی پرداخت کے لئے ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کی تعمیر کرنا ہے اور صنعتی اور تعلیمی اِداروں کے درمیان ہم آہنگی نوجوان اِختراع کاروں کی حوصلہ اَفزائی اور انہیں بااِختیار بنائے گی اور سٹارٹ اَپس میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔‘‘










