جموںوکشمیر میں ’’ اِنڈسٹریل کوریڈورز اورپلگ اینڈ پلے اِنفراسٹرکچر ‘‘ پر یوٹی سطح کی ورکشاپ کا اِنعقاد

جموں// محکمہ صنعت و حرفت نے کنونشن سینٹر جموں میں ’’اِنڈسٹریل کوریڈورز اور پلگ اینڈ پلے انفراسٹرکچر: عالمی مینوفیکچرنگ کیلئے ریاستی تیاری‘‘ کے موضوع پریو ٹی سطح کی اِندرونی مشاورتی ورکشاپ کا اِنعقاد کیا۔یہ ورکشاپ مرکزی وزارتِ صنعت و حرفت کے محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت (ڈِی پی آئی آئی ٹی) کی طرف سے شروع کردہ منظم مشاورتی عمل کے تحت منعقد کیا گیا جو جولائی 2026 میں منعقد ہونے والے نیشنل ڈیپارٹمنٹل سمٹ کی تیاری کے سلسلے میں ہے۔یہ اَقدام چیف سیکرٹریوں کی پانچویں قومی کانفرنس کے بعد اُبھرنے والے مرکز۔ریاست مشاورتی فریم ورک کا ایک اہم جزو ہے۔ اِس اَقدام کا مقصد صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، لاجسٹکس کے انضمام، سرمایہ کاری کے فروغ، اِنڈسٹریل کوریڈروز، پلگ اینڈ پلے ماحولیاتی نظام، سکل ڈیولپمنٹ اور عالمی مینوفیکچرنگ ویلیو چینز کے ساتھ انضمام کے لئے ضروری پالیسی اِصلاحات میں مربوط کوششوں کے ذریعے ہندوستان کی مینوفیکچرنگ مسابقت کو بڑھانا ہے۔ورکشاپ کا آغاز ڈائریکٹر صنعت و حرفت جموں ڈاکٹر ارون کمار منہاس کے خطبہ اِستقبالیہ سے ہوا۔کمشنر سیکرٹر ی صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ نے اِفتتاحی خطاب میں ہندوستان کے حق میں بدلتے جغرافیائی سیاسی منظرنامے سے فائدہ اُٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے مشاورتی عمل کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اسے جموں و کشمیر کے لیے ایک قیمتی موقع قرار دیا جس کے ذریعے وہ اپنی صنعتی خوبیوں کو پیش کر سکتا ہے، انفراسٹرکچر کی کمیوں کی نشاندہی کر سکتا ہے اور قومی پالیسی سازی کے فریم ورک کے سامنے علاقائی مسائل کو پیش کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونی ٹیریٹری مینوفیکچرنگ پر مبنی ترقی کے لئے نمایاں غیر استعمال شدہ صلاحیت رکھتا ہے اور اسے ہدفی سرمایہ کاری اور پالیسی سپورٹ حاصل کرنے کے لئے ایسے پلیٹ فارموں سے مؤثر طریقے سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ورکشاپ میں انویسٹ انڈیا ٹیم کی سہولیت کاری میں دو موضوعاتی سیشن شامل تھے جس کے بعد ایک وسیع اوپن ہاؤس بحث اور ڈائریکٹر صنعت و حرفت کے اختتامی مشاہدات پیش کئے گئے۔ مباحثے کی رہنمائی ڈِی پی آئی آئی ٹی کی جانب سے متعین چار اہم ستونوں کے تحت کی گئی جن میں زمین اور صنعتی اِنفراسٹرکچر اثاثے، کنکٹویٹی اور گیٹ وے انفراسٹرکچر، ہنر و اِختراعی ماحولیاتی نظام اور پالیسی، ادارے و ضوابط شامل تھے۔اوپن ہاؤسیشن کے دوران تمام شراکت داروں کو اپنے عملی تجربات اور آرأپیش کرنے، شعبہ جاتی چیلنجوں کو اُجاگر کرنے اور جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کو مزید آسان اور مسابقتی بنانے کے لئے تجاویز دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس تعامل نے یقینی بنایا کہ مختلف علاقوں اور شعبوں کے نقطہ نظر کو مشاورتی عمل میں جامع طور پر شامل کیا جائے۔یہ ورکشاپ حکومت کی طرف سے ریاستوں اوریوٹیز کی عالمی مینوفیکچرنگ ویلیو چینز کے ساتھ انضمام کی تیاری کا جائزہ لینے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے جو وِکسِت بھارت 2047 کے ویژ ن سے ہم آہنگ ہے ۔اِس ملک گیر مشاورتی مہم کے تحت جموں و کشمیر مختلف مشاورتی سیشنوںکے ذریعے شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے۔ ان مباحثوں سے حاصل ہونے والی تجاویز اور سفارشات کو مرتب کرکے ڈِی پی آئی آئی ٹی کو پیش کیا جائے گا تاکہ قومی سمٹ میں ہونے والی پالیسی مشاورت میں جموں و کشمیر کی صنعتی ترجیحات، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور ترقیاتی اُمنگوں کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔ورکشاپ میں مختلف اضلاع کے نمائندوں، مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں کے نمائندوں، اسوچیم جموں و کشمیر کونسل کے چیئرمین مانک بترا، لگھو ادیوگ بھارتی کی قومی ایگزیکٹو کے رکن پروین پرگل، سمال اینڈ ٹائنی انڈسٹری کے صدر ہروِیندر سنگھ، سی آئی سی جموں و کشمیر کے صدر راکیش شرما، کو۔ چیئرمین ایف آئی سی سی آئی راکیش بھٹ، ممتاز صنعت کاروں اور محکمہ صنعت و حرفت کے سینئر اَفسران نے شرکت کی۔