جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کا ’لینڈ ریو نیو قوانی ،حصول اَراضی کے قوانین‘‘پر دو روزہ ریفریشر کورس اِختتام پذیر

جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کا ’لینڈ ریو نیو قوانی ،حصول اَراضی کے قوانین‘‘پر دو روزہ ریفریشر کورس اِختتام پذیر

جموں//دوروزہ ریفریشر کورس جموں و کشمیر کے ضلعی اور سیشن ججوں کے لئے لینڈ ریونیو قانون، حصول اراضی کے قوانین میں اراضی اصلاحات اور ترامیم، طریقہ کار کی شفافیت اور فطری اِنصاف، معاوضے کا تعین اوربحالی اور متاثرہ اَفراد کی بازآبادکاری اورزمین کے حصول میں منصفانہ معاوضہ اور شفافیت کے حق قانون 2013 کے تحت جرائم اور جرمانوں کا فیصلہ پر مبنی تھا،اِختتام پذیر ہوا۔ اِس تقریب کا اِنعقاد چیف جسٹس جموں و کشمیر ہائی کورٹ اور لداخ ،سرپرست جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس تاشی ربستن کی سرپرستی ،چیئرپرسن گورننگ کمیٹی جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی اورممبران گورننگ کمیٹی جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی کی رہنمائی میں جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی نے جانی پور جموں میں کیا تھا۔ پہلے دن کا سیشن ممبرجموں و کشمیر سپیشل ٹریبونل سنجے پریہار نے اِنعقاد کیا جنہوں نے لینڈ ریونیو قوانین اور حصول اَراضی قوانین میں حالیہ ترامیم کی وضاحت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ قوانین قانونی فریم ورک کے مرکز میں ہیں جو زمین کے تنازعات ، حصول اور معاوضے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ریسورس پرسن نے حصول اراضی کے تناظر میں طریقہ کار کی اِنصاف پسندی اور قدرتی انصاف کے اہم اصولوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصول اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں کہ اراضی کے حصول کا عمل نہ صرف قانونی طور پر مطابقت رکھتا ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی مستحکم ہے۔ اُنہوں نے معاوضے کے تعین اور متاثرہ افراد کی بازآبادکاری پر بھی تبادلہ خیال کیا جو 2013 کے ایکٹ کا ایک اہم عنصر ہے۔دوسرے دن، سینئر ایڈوکیٹ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ آر ایس ٹھاکر نے سیشن کا اِنعقاد کیا جنہوں نے اس بات کی معلومات فراہم کی کہ کس طرح عدالتیں اس بات کو یقینی بناسکتی ہیں کہ معاوضہ منصفانہ، شفاف اور قانونی معیار کے مطابق ہو۔ فاضل ریسورس پرسن نے ایکٹ کے تحت جرائم اور سزاؤں کے فیصلے پر بھی توجہ دی اور اِس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ جوابدہی اور متاثرہ اَفراد کے حقوق کو برقرار رکھا جائے۔اِختتامی تقریب کے دوران سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس این کوٹیشور سنگھ نے اِختتامی خطاب کیا اور سپریم کورٹ آف اِنڈیا کے جج کی حیثیت سے اپنے تجربے کا اِشتراک کیا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ زمین کی ملکیت، حصول اور معاوضے سے متعلق قوانین جیسے حصول اَراضی، بحالی اور بازآبادکاری میں منصفانہ معاوضہ اور شفافیت کا حق قانون 2013 اس بات کو یقینی بنانے میں اہم ہیں کہ ریاست اَپنے ترقیاتی اہداف کو پورا کرتی ہے لیکن زمینداروں اور متاثرہ اَفراد کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔جسٹس کوٹیشور سنگھ نے عدلیہ میں ججوں کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے رکھوالوںکی حیثیت سے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ترقی اور پیش رفت بے گھر ہونے ، حق رائے دہی سے محرومی یا بنیادی حقوق سے محرومی کی قیمت پر نہ آئے۔چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس تاشی ربستن نے اَپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ اِس بات کا اعادہ کیا کہ لینڈ ریونیو قوانین اور طریقہ کار نے تاریخی طور پر خطوں بالخصوص جموں و کشمیر اور لداخ جیسے علاقوں کے اِقتصادی اور سماجی منظرنامے کی تشکیل میں اہم کردار اَدا کیا ہے جہاں زمین، وسائل اور لوگوں کے درمیان گہرا رشتہ جڑا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں لینڈ ریونیو ایکٹ تاریخی طور پر مقامی آبادی کو بیرونی دباؤ سے بچانے کے لئے ایک محافظ کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔
جسٹس تاشی ربستن نے اِس بات پر زور دیا کہ منسوخی کے بعد عدلیہ کو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے تیزی سے فعال کردار اَدا کرنا ہوگا کہ نئے قوانین کے ذریعے لائی گئی تبدیلیاں معاشرے کے کمزور طبقوں بالخصوص کسانوں ، دیہی کمیونٹی اور قبائلی گروہوں کو غیر متناسب طور پر متاثر نہ کریں۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ عدالت کے ججوں اور اَفسروں کی حیثیت سے ہماری بنیادی ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کمیونٹیوںکے حقوق ان کے روایتی حقوق اور منفرد حالات کا خیال کئے بغیر بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں یا قومی مفادات سے تجاوز نہ کیا جائے۔چیئرپرسن گورننگ کمیٹی جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس سنجیو کمار نے اِستقبالیہ خطاب کرتے ہوئے لینڈ ریونیو قوانین سے وابستہ پیچیدگیوں اور چیلنجوں بالخصوص عوامی فلاح و بہبود اور اَفراد کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن کرنے پر بات کی۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ یہ پروگرام نہ صرف ہمارے علم کو بڑھانے کا ایک موقعہ ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانے کے لئے ہے کہ ہم جو فیصلے دیتے ہیں وہ باخبر ، منصفانہ اورفطری اِنصاف کے اصولوں پر مبنی ہوں۔ڈائریکٹر جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی سونیا گپتا نے دو روزہ ریفریشر کورس کی نظامت کے فرائض اَنجام دئیے اور شکریہ کی تحریک پیش کی۔تمام سیشن بہت ہی اِستفساری رہے جس کے دوران تمام شرکأ نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور اَپنے تجربات اور مشکلات کااِشتراک کیا اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی ۔ اُنہوں نے متعدد سوالات بھی کئے جن کا قابل ریسورس پرسن نے تسلی بخش جوابات دئیے۔