کمیونٹی کی شمولیت فائدہ مند نتائج کیلئے ضروری ہے۔ ایم ڈی جل جیون مشن
سری نگر//محکمہ جل شکتی نے آج اِنسٹی چیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ سری نگر میں پیرامل فائونڈیشن کے اِشتراک سے ’’ماخذ کی دیر پایت اورچشموں کوبحال کرنے ‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کا اِنعقاد کیا۔تقریب میں حکومت ،تعلیمی اِداروں ، سماجی آرگنائزیشنوں کے سرکردہ ماہرین کو اِکٹھا کیا گیا جنہوں نے دیگر مسائل کے علاوہ ماخذ کی دیرپایت اور چشموں کی بحالی اور پانی کے معیار پر تحقیق پیش کی اور اس پر تبادلہ خیال کیا ۔ ورکشاپ کا مقصد اُبھرتے ہوئے پانی کے مسائل کی ضرورت اور ان پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی وضع کرنا تھا۔دورانِ ورکشاپ مقررین نے اِس بات پر اِتفاق رائے ظاہر کیاکہ ’’ ماخذ دیرپایت اور چشموں کی بحالی‘‘ آج کے معاشرے کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے اور دیرپا حصول کے حل کو ایک جامع اور بین الضابطہ نقطہ نظر سے ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔مقررین نے اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے پر اَثر انداز ہونے والے منصوبوں میں عوامی شرکت کی حوصلہ اَفزائی کر کے یہ کمیونٹیوں کو تبدیل کرنے سے منصفانہ ، مساوی او ردیر پا نتائج فراہم کرتا ہے۔مشن ڈائریکٹر جل جیون مشن جی این ایتو نے اَپنے خطاب میں کہا کہ ماخذ کی دیر پایت ہم سب کے لئے ایک اہم تشویش ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بہت سارے چشموں سے نوازا گیا ہے لیکن یہاں چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا حل ہمیں اِجتماعی کوششوں سے تلاش کرنا ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ پانی کو برقرار رکھنا ایک سماجی ذمہ داری ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کا لوگوں کی شناخت سے گہر ا تعلق ہے اور فائدہ مند نتائج کے لئے کمیونٹی کی شمولیت کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ دیر پا عمل میں اِنجینئر کا کردار بہت محدود ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ کمیونٹی کا ہر فرد اس عمل کا مالک نہ ہو۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک مینڈیٹ اور ذمہ داری ہے کہ ہم اَپنی کمیونٹی کو ایک اِنجینئر کی طرح سوچنے پر مجبور کریں ۔اُنہوں نے کہا کہ چشموں کی تجدید اسی وقت ممکن ہے جب پوری کمیونٹی اَپنا کردار کرنے اور ذمہ داریاں اَدا کرنے کے لئے تیار ہو۔پرمل فائونڈیشن سے سنگیتا ممگین نے اَپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ماخذ دیرپایت بنیادی خدشاتمیں سے ایک ہونے جار ہی ہے اور اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ پرمل فائونڈیشن جے کے میں جے جے ایم کو درکار تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہے گی۔ورکشاپ میں چشموں کی دیرپا ترقی سے متعلق مسائل اور ان کی تزئین و آرائش ، تجدید کاری اور اَفزائش کے لئے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ورکشاپ کے شرکأ نے چشموں کی تجدید سے متعلق اہم سوالات اور نکات کو اُبھارا جس کے نتیجے میں ایک نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ۔ ڈاکٹر سمیع اللہ بٹ نے وادی کشمیر میں چشموں پر کام کرنے کے اَپنے 20برس کے تجربات کو بیان کیا۔ نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف ہائیڈرولوجی جموں کے ڈاکٹر ڈی ایس بشت نے ’’ سپرنگنگ اِن ایکشن : این آئی ایچ کا سفر اور سپرنگ شیڈ مینجمنٹ میںاِنوویشن ‘‘ پر ایک پرزنٹیشن پیش کی۔ابھیشیک لیکم نے ’سی ایچ آئی آر اے جی ‘‘ سے ورچیول ایڈریس ’’ سپرنگ شیڈ مینجمنٹ کے لئے سماجی۔ ہائیدروجیولوجیکل اپروچ : ہمالیائی تناظر میں تجربات ‘‘ پر ایک پرزنٹیشن دی ۔ آغا خان فائونڈیشن کے اَسد عمر نے بھارت کے پہاڑی علاقوں میں پینے کے پانی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے سپرنگ شیڈ مینجمنٹ پربات کی۔اِس موقعہ پر چیف اِنجینئر پی ڈبلیو ڈی کشمیر / جموں ، چیف اِنجینئر آئی اینڈ ایف سی، بھاونا بدولا ( پیرامل فائونڈیشن ) کے علاوہ دیگر متعلقین نے بھی اَپنے اَپنے خیالات کا اِظہا ر کیا۔










