ایم جی نریگا میں ریکارڈ کامیابیوں کی سرہا ،ویسٹ اور پانی کے انتظام میں جدت لانے کی ضرورت پر زور دیا
سری نگر// وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقیاتی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے آج کشمیر کے دیہی ترقیاتی محکمہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیاجس میں اہم سکیموں اور ترقیاتی اقدامات پر توجہ دی گئی۔اُنہوں نے جامع ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایم جی نریگا کے کام اقتصادی طور پر کمزور اورکمزور گھرانوں پر مرکوز ہونے چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ روزگار کی مدد فراہم کی جا سکے۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ مقامی پی ڈِی ڈِی جونیئر اِنجینئروں کو ڈی ڈی سی اور بی ڈی سی کے دفتر کی عمارتوں میں برقی کاموں میں مصروف رکھا جائے اور تمام منظور شدہ منصوبوں کی تکنیکی منظوری متعلقہ اے سی ڈیز، اے سی پیز اور بی ڈی اوز کے ساتھ اِشتراک کیا جائے تاکہ شفافیت کویقینی بنایا جا سکے۔ ایس اے ایس سی آئی فنڈز کا تیز اِستعمال، اگلے مالی برس کے کاموں کے منصوبوں کی 31 ؍مارچ 2026 ء تک بروقت جمع کرنے اور پانی کے تحفظ کے منصوبوں کو بالخصوص پانی کی کمی والے علاقوں اور بالائی علاقوں میں ترجیح دی جائے۔وزیر موصوف نے ایس بی ایم۔جی کے تحت سالڈ و لیکوڈ ویسٹ مینجمنٹ کے بارے میں بی ڈی اوز سے زمینی سطح پر رائے شامل کرنے پر زور دیا اور اُنہوں نے اس بات پر زور دیاکہ کام کے منصوبے منتخب نمائندوں بالخصوص ایم ایل ایز کے مشورے سے تیار کئے جائیں۔ انہوں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار کے سخت اصولوں کی پابندی اور شکایات کے حل کے دوران افسران سے پیشہ ورانہ رویہ، انتظامی نظم و ضبط اور عوام سے فوری رابطے کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ دورانِ میٹنگ ڈائریکٹر دیہی ترقی محکمہ کشمیر نے محکمہ کی کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جس میں ایم جی ۔ نریگا پر خصوصی زور دیا گیا جس کے تحت صوبہ کشمیر نے شاندار نتائج پیش کئے ہیں۔ ڈویژن نے سالانہ ہدف 1.34 کروڑ ایام کار کے مقابلے میں پہلے ہی 1.87 کروڑ ایام کار پیدا کئے ہیں جو ایک اہم سنگ میل ہے۔ وزیر جاوید ڈار کو بتایا گیا کہ جاب کارڈ ہولڈروں کے 82فیصد سے زائد ای۔کے وائی سی مکمل ہو چکی ہے جس سے شفافیت اور جوابدہی مضبوط ہوئی ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ ایم جی ۔نریگا کی تنخواہوں کی ادائیگی کے 98فیصد سے زائد معاملات مقررہ Tٹی پلس 8 دن کی مدت میں جاری کئے جا چکے ہیںجو خدمات کی فراہمی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔جائزے میں پی ایم اے وائی۔جی 2.0 کے تحت پیش رفت کا بھی احاطہ کیا گیا جہاں ایک وسیع سروے مہم کے نتیجے میں 1.91 لاکھ گھروں کو پروگرام کے آئندہ مرحلے کے ممکنہ مستفیدین کے طور پر شناخت کیا گیا۔ سی ڈی و پنچایتی راج کے کاموں،اے ڈِی پی، کیپیکس اور آر جی ایس اے کے تحت پیش رفت پر بھی تفصیل سے بات کی گئی۔










