فلوری کلچر کی قیادت میں دیہی تبدیلی پر زور
اننت ناگ//وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے اعلیٰ قیمت والی پھولوں کی زراعت کو فروغ دینے اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم میں آج ایم سی آر ایس سگام سکاسٹ کشمیر میں ٹیولپ گارڈن کا اِفتتاح کیا۔اِس موقعہ پر وزیرموصوف کے ہمراہ رُکن اسمبلی ڈوروغلام احمد میر،سینئر اَفسران، سائنسدان اور دیگر اہلکار بھی تھے۔ تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار آشیش سی ورما اور مشن ڈائریکٹر ایچ اے ڈِی پی سندیپ کمار نے بھی شرکت کی۔دورے کے دوران وزیر نے ٹیولپ کیاریوں کا تفصیلی معائینہ کیا اور سینٹر میں جاری فلوری کلچر اور تحقیقاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اِس موقع پر سینٹر کی تحقیقی کامیابیوں، اِختراعات اور ترقیاتی اَقدامات پر مبنی ایک اشاعت بھی جاری کی گئی جس سے خطے میں سائنسی فلور ی کلچر کو فروغ دینے میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اُجاگر کیا گیا۔اُنہوں نے میڈیا اَفراد سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت کو سراہتے ہوئے اسے شراکتی ترقی کی ایک بہترین مثال قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا، ’’اگرچہ یہ باغ ابھی اِبتدائی مرحلے میں ہے، تاہم اس میں مستقبل کے لئے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ سیاحوں کی آمد میں متوقع اضافے سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، دیرپا روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور خطے میں کاروباری اِمکانات بڑھیں گے۔‘‘وزیر جاوید ڈار نے اِس بات پر زور دیا کہ یہ اَقدام درآمدی ٹیولپ بلب پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار اَدا کرے گاجس سے خود انحصاری کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت کو تقویت ملے گی ۔ اُنہوں نے حکومت کے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کو اعلیٰ قدر کے فلوری کلچر کے مرکز کے طور پر فروغ دیا جائے گا جس کے لئے سرمایہ کاری، پالیسی سپورٹ اور اِدارہ جاتی مضبوطی کو یقینی بنایا جائے گا۔اُنہوں نے تحقیق اور اِختراع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سائنسی ترقی کو عملی سطح پر اَپنانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کسانوں تک جدید ٹیکنالوجی کی تیز تر منتقلی پر زور دیا تاکہ پیداوار میں اِضافہ، دیرپائی اور زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔وائس چانسلرسکاسٹ کشمری نذیر احمد گنائی نے یونیورسٹی کی جدید تحقیق اور کسان دوست اِختراعات کے عزم کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سگام میں قائم ٹیولپ گارڈن بلب پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کے زرعی شعبے میں تنوع اور استحکام لانے کی ایک اہم حکمت عملی ہے۔اِس موقعہ پر ’’کشمیر میں ٹیولپ بلب پیداوار کے اِمکانات‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ بھی منعقد کیا گیا جس میں ماہرین، سائنسدانوں اور ترقی پسند کسانوں نے فصلوں میں تنوع، جدید کاشت کاری، نئی ٹیکنالوجی اوردیرپا ترقی کی حکمت عملیوں پر تفصیلی غور وخوض کیاگیا۔ مباحثوں میں وادی میں ٹیولپ کی کاشت کو ایک منافع بخش اور قابلِ عمل پیشہ قرار دیا گیا۔تقریب میں ایچ آر نائیک ،ریحانہ حبیب کنٹھ اورانامیکادے سمیت سینئر سائنسدانوں، اَفسران، ترقی پسند کسانوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔










