راجوری//وزیر برائے جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے جموں و کشمیر میں وائلڈ لائف کنزرویشن کی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے راجوری کے شاچیرا کنزرویشن ریزرو میں نئے تعمیر شدہ کارنیوو انکلوژر کا اِفتتاح کیا۔یہ اِفتتاح جموں و کشمیر بھر میں 2 سے 8 ؍اکتوبر تک منائے جا رہے وائلڈ لائف ہفتہ 2025 کی تقریبات کا حصہ ہے جس کا مقصد جموںوکشمیر کے متنوع ماحولیاتی وسائل کے تحفظ کے لئے بیداری اور عملی اَقدامات کو فروغ دینا ہے۔اِس موقعہ پر چیئرپرسن ڈِی ڈِی سی نسیم لیاقت چودھری ، ممبران قانون اسمبلی جاوید اِقبال چودھری ، اِفتخار احمد، چیئرمین پولیوشن کنٹرول کمیٹی، چیف وائلڈ لائف وارڈن جموں و کشمیر، محکمہ جنگلات کے سینئر اَفسران، ضلعی اَفسران اور مقامی کمیونٹی کے اَفراد موجود تھے۔کارنیور انکلوژر کا اِفتتاح جموں و کشمیر میں محفوظ جنگلاتی علاقوں کو مضبوط بنانے اور خطرے سے دوچار پرجاتیوں کی طویل مدتی فلاح و بہبود کے لئے ماحول سے ہم آہنگ سہولیات کی فراہمی کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے۔وزیر موصوف نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے مشترکہ اور ہم آہنگ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے قدرتی ورثے کا تحفظ نہ صرف اَخلاقی اور ماحولیاتی ناگزیز ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے ایک دیرپا اور مستحکم مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔وزیرجاوید رانانے کہا کہ تحفظی کاوشیں عوامی شمولیت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ اُنہوں نے جنگلاتی علاقوں کے اندر اور آس پاس رہنے والی مقامی آبادیوں کو جنگلی حیات اور قدرتی مسکن کے تحفظ میں اہم شراکت دار بننے پر زور دیا۔اُنہوں نے تجاوزات، غیر قانونی شکار اور مسکن کی تباہی جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مربوط اقدامات پر زور دیا۔ وزیر موصوف نے جنگلات کی شجرکاری، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور انسان و جنگلی حیات کے تصادم میں کمی کے لئے جدید اور اِختراعی حکمتِ عملی اَپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے ایکو ٹوراِزم کو اس طرح فروغ دینے پر زور دیا جو دیرپا اِقتصادی ترقی اور حساسیت کے درمیان توازن قائم رکھے تاکہ مقامی آبادی کو فائدہ پہنچے اور ماحولیاتی توازن برقرار رہے۔جاوید رانا نے جنگلاتی نگرانی، جنگلی حیات کی ٹریکنگ اور مسکن کی نگرانی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو اَپنانے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ ماحولیاتی ذمہ داری ایک مشترکہ ذِمہ داری ہے جو صرف محکمانہ حدود تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، پالیسیوں میں مطابقت اور حکومت، سول سوسائٹی و شہریوں کے درمیان قریبی تال میل ہی دیرپا اور مؤثر ماحولیاتی تحفظ کے نتائج دے سکتا ہے۔










