سلیمان ٹینگ ڈل گیٹ میں آبی ذخائر کیلئے ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا
سری نگر//وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی اَمور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے حلقہ اِنتخاب سے متعلق مسائل کے حل اور اہم محکموں کے درمیان بہتر تال میل کو مضبوط بنانے کے مقصد سے آج خانیار اور حضرت بل اسمبلی حلقوں میں پانی کی فراہمی، آبپاشی، ماحولیات، جنگلات اور قبائلی امور سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ طلب کی۔میٹنگ میں ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر، رُکن اسمبلی حضرت بل سلمان علی ساگر کے علاوہ چیف کنزرویٹر آف فارسٹ کشمیر، ڈائریکٹر قبائلی امور جموں و کشمیر، جل شکتی/آبپاشی و فلڈ کنٹرول کشمیر کے چیف انجینئروں، سپراِنٹنڈنگ اِنجینئر ہائیڈرولک سری نگر، وائلڈ لائف وارڈن سینٹرل سری نگر، ڈویژنل فارسٹ آفیسر ایس ایم سی/سوشل فارسٹری سری نگر، ایگزیکٹیواِنجینئرز گراؤنڈ واٹر/ماسٹر پلان/جل شکتی سری نگر و گاندربل اور ایگزیکٹیو اِنجینئرز آبپاشی و فلڈ کنٹرول سری نگر و گاندربل نے شرکت کی۔میٹنگ میں پانی کی فراہمی، آبپاشی، پانی کے ذرائع میں اِضافہ، تقسیم کے نیٹ ورک اور زمینی پانی کے اِنتظام کا جائزہ لیا گیا۔جس میں جاری اور تجویز کردہ منصوبوں کو متاثر کرنے والی رُکاوٹوں کو دُور کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوف نے سلیمان ٹینگ ڈل گیٹ میں اضافی واٹر ریزروائر کی تعمیر کے ذریعے موجودہ آبی بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کرنے کے لئے ایک کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا۔ اِس کا مقصد پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک کو بڑھانا اورملحقہ علاقوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔اُننہوں نے گنجان آبادی والے علاقوں میں آبی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ جل شکتی کو ضروری طریقہ کار وضع کرنے اور اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت دی۔وزیر جل شکتی جاوید رانا نے تُل پتھری واٹر سپلائی سکیم کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ جنگلات سے متعلق زیر اِلتوأ مسائل کو جلد حل کرنے پر زور دیا تاکہ منصوبے پر مزید پیش رفت ممکن ہو سکے۔ اُنہوں نے سندھ ایکسٹینشن(ایس اِی) اور ماوس کنال سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا اور پانی و آبپاشی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ان کی بحالی اور بہتری کے لئے ضروری اَقدامات کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے شدید سلٹ جمع ہونے اور پانی کی گنجائش کم ہونے والی نہروں کی جامع ڈریجنگ اور ڈِی سلٹنگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پانی کے بہاؤ اور آبپاشی کی صلاحیت میں بہتری لائی جا سکے۔ اُنہوں نے حضرت بل میں دھان کے کھیتوں کے لئے آبپاشی کا پانی بروقت دستیاب کرنے پر بھی زور دیا اور ہدایت دی کہ ان علاقوں کی پہلے سے نشاندہی کی جائے جہاں پانی کی قلت کا خدشہ ہو تاکہ فصل کی کاشت سیزن میں قلت سے بچا جا سکے۔میٹنگ میں ماسٹر پلان سے متعلق رُکاوٹوں،کیپکس منصوبہ بندی اور پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو ان علاقوں تک توسیع دینے کے مسائل پر بھی غور وخوض کیا گیا جہاں سہولیات ناکافی ہیں۔ اِس کے علاوہ پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور آبپاشی کے نئے منصوبے بالخصوص پھاک جیسے ضرورت مند علاقوں کے لئے بھی بات ہوئی۔وزیرجاوید رانا نے آلسٹینگ اور رِنگل کے 5 ایم جی ڈِی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس سے پانی کی تقسیم کا جائزہ لینے پر زوردیااور موجودہ تقسیم کی صورتحال کے ساتھ ساتھ حضرت بل کے لئے پانی کا حصہ بڑھانے کے اِمکانات پر وضاحت طلب کی۔ زیر بحث دیگر مسائل میں 90 فٹ روڈ کے ساتھ مخصوص پانی کی سپلائی لائن، سیدپورہ ہمچی میں پانی اور آبپاشی کی فراہمی، مجوزہ تیل بل او ایچ ٹی اور ڈِسٹری بیوشن لائن اور گراؤنڈ واٹر وِنگ کی مداخلتیں شامل ہیں۔ وزیر موصوف نے ہڈورہ سورس کے ریپڈ سینڈ فلٹریشن پلانٹ (آر ایس ایف پی) کی استعداد بڑھانے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جس کے تحت دو نئے پروڈکشن ویلز تعمیر کئے جانے ہیں۔ اِس کے علاوہ آبپاشی سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور آئندہ منصوبوں کے لئے ترجیحی علاقوں کی نشاندہی کی گئی۔وزیر موصوف نے عوامی نمائندوں اور اِنتظامیہ کے درمیان قریبی تال میل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود اِجتماعی ذِمہ داری اور ٹھوس اقدام کے ذریعے بہترین طریقے سے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’عوامی نمائندے زمینی سطح کے مسائل کو سامنے لانے میں اہم کردار اَدا کرتے ہیں اور ان مسائل کو مؤثر انداز میں حل کرنا ہماری اِجتماعی ذِمہ داری ہے۔ جب عوامی نمائندے اور محکمے قریبی تال میل کے ساتھ کام کرتے ہیں تو ردعمل زیادہ مرکوز، مؤثر اور بروقت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں عوام کو بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔‘‘دونوں حلقوں کے مکینوں نے بھی وزیر کے سامنے مختلف ترقیاتی مسائل اور مطالبات پیش کئے اور ان کے جلد حل کے لئے مداخلت کی درخواست کی۔جاویدرانانے یقین دِلایا کہ نشاندہی کئے گئے تمام منصوبوں کو مرحلہ وار اور ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا جبکہ مقامی آبادی کی فوری اور اہم ترقیاتی ضروریات کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔اُنہوں نے کہا، ’’عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت تمام حلقوں میں متوازن اور جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ ہماری توجہ ترقی کو نچلی سطح تک پہنچانے، مقامی ضروریات کو پورا کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ ہر منصوبے کی زیادہ سے زیادہ عوامی فائدے کے لئے مرحلہ وار اور ترجیحی بنیادوں پر منصوبہ بندی اور تکمیل کی جائے۔‘‘میٹنگ میں قبائلی آبادی کے تناسب سے قبائلی ترقی کے لئے فنڈز مختص کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے اور قبائلی علاقوں میں ترقیاتی مداخلتوں کے لئے مناسب فنڈنگ پر زور دیا گیا۔










