جادو پور اسٹیشن پر آدھی رات کو تجاوزات ہٹانے کی مہم سے تناؤ، کئی افراد زخمی

کولکاتا/یو این آئی//مغربی بنگال میں جادو پور اسٹیشن کے علاقے میں ریلوے حکام کی جانب سے اتوار کی آدھی رات کے کچھ دیر بعد تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائے جانے سے کشیدگی پھیل گئی اور مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں بائیں بازو اور کانگریس کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا اور بہت سے مظاہرین زخمی ہو گئے۔ پیر کی صبح سویرے چلائی گئی اس مہم میں بلڈوزروں نے اسٹیشن کے احاطے کے ارد گرد کئی مبینہ غیر قانونی دکانوں اور ڈھانچوں کو مسمار کر دیا۔ اس مہم کے خدشے کے پیش نظر بائیں بازو اور کانگریس کے کارکن، مقامی رہائشیوں اور پھیری والوں کے ساتھ مل کر اتوار کی شام سے ہی اس کارروائی کے خلاف موقع پر جمع ہوگئے تھے ۔ اسٹیشن کے علاقے اور اس کے آس پاس کولکاتا پولیس، ریلوے پروٹیکشن فورس اور مرکزی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ مہم کی تیاری کے تحت رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور علاقے کے کچھ حصوں میں آمدورفت کو محدود کر دیا گیا تھا۔حراست میں لیے گئے افراد میں سی پی آئی (ایم) کے رہنما سریجن بھٹاچاریہ بھی شامل ہیں۔ مظاہرین نے مسماری کی مہم کو روکنے کی کوشش کی، کچھ لوگ بلڈوزروں کے سامنے لیٹ گئے جبکہ کچھ نے کارروائی روکنے کے لیے مشینوں پر چڑھنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی مسماری کا کام شروع ہوا، کشیدگی بڑھ گئی اور مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا۔ اگرچہ اس وقت بھی موقع پر بلڈوزر موجود تھے ، لیکن بائیں بازو کے کارکنوں کے احتجاج کے بعد اس وقت کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی تھی۔ یہ تازہ کارروائی ریلوے حکام کی جانب سے اہم ریلوے اسٹیشنوں، جن میں ہاوڑہ اور سیالدہ شامل ہیں، کے ارد گرد مبینہ تجاوزات کو ہٹانے کی وسیع مہم کے دوران کی گئی ہے ، جہاں حالیہ ہفتوں میں سیکڑوں عارضی ڈھانچے اور سڑک کنارے لگی دکانیں ہٹائی گئی ہیں۔