سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی آج وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کیساتھ ملاقی ہوئے۔ سی این آئی کے مطابق انہوں نے وزیر موصوف سے کہا کہ فوجی کی کانوائے کے وقت سول ٹریفک کی نقل و حمل مکمل طور پر بند کی جاتی ہے جو نہ صرف عام لوگوں کیلئے باعث عذاب بن جاتا ہے بلکہ اس سے مریضوں خصوصاً حاملہ خواتین کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس عمل سے ملازمین کا بھی وقت ضائع ہوجاتا ہے اور سیاحوں کو بھی کافی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سال سے فوجی کانوائے کے وقت ہر روز سول گاڑیوں کو روکنا روز کا معمول بن گیا ہے اور اس کا براہ راست اثر یہاں کی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے۔ انہوں نے وزیر موصوف پر زور دیا کہ اس طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے تاکہ لوگوں کو راحت پہنچائی جاسکے۔ اس کے علاوہ مسعودی نے وزیر دفاع کے سامنے فوج کے زیر تصرف زمینوں کے کرایہ کا بھی معاملہ اُٹھایا اور کہا کہ کافی وقت سے مالکانِ زمین کو کرایہ فراہم نہیں کیا جارہا ہے جس سے انہیں کافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے وزیر دفاع پر زور دیا کہ مذکورہ زمین مالکان کو فوری طور پر کرایہ ادا کیا جانا چاہئے ۔ مسعودی نے وزیر دفاع کے ساتھ AIMSکی تعمیر کا معاملہ بھی اُٹھایا اور کہا کہ اس پروجیکٹ پر جلد کام شروع ہونا چاہئے تاکہ جنوبی کشمیر کے 4اضلاع سے وابستہ لوگوں کو علاج و معالجہ کی سہولیات میسر رہ سکیں۔










