تمباکو نوشی سے ہر برس 5ملین لوگوں کی موت ہوتی ہے

عالمی تمباکو مخالف دن کے حوالے سے وادی میں بھی تقاریب

سرینگر///آج پوری دنیا میں تمباکو مخالف دن کے سلسلے میں تقاریب کا اہتمام ہورہا ہے اور وادی کشمیرمیں بھی تمباکوں کے مضر اثرات کے بارے میں مختلف جانکاری پروگراموں کا انعقاد کیا جارہا ہے جبکہ سکولوں بچوں کی جانب سے ریلیاں بھی نکالی جارہی ہیں۔ ادھر تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہر برس تقریباً 5 ملین لوگوں کی موت ہو رہی ہے۔ جن میں تقریبا 1.5 ملین خواتین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 80 فیصد مرد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں ، جبکہ کچھ ممالک میں خواتین کی ایک خاصی تعداد تمباکو نوشی کا استعمال کر رہی ہیں اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔جن میں تقریبا 1.5 ملین خواتین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 80 فیصد مرد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ کچھ ممالک میں خواتین کی ایک خاصی تعداد تمباکو نوشی کا استعمال کر رہی ہیں اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔عالمی سطح پر تمباکو نوشی سے ہونے والے مضر اثرات اور اس سے ہو رہے نقصانات کو دیکھتے ہوئے سنہ1987 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) کے رکن ممالک نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کے ذریعے 7 اپریل، 1988 سے ایک دن تمباکو نوشی کے انسداد کے منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے بعد سے ہر برس 31 مئی کو ’عالمی یوم انسداد تمباکو ‘( ورلڈ نْو ٹوباکو ڈے) منایا جاتا ہے۔ ہر برس 31 مئی کو دنیا میں مختلف پروگرام کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو تمباکو نوشی سے صحت پر پڑنے والے نقصان کے بارے میں اجاگر کیا جاتا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے اور یہ عمل صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے اس پر فکر ظاہر کی جا رہی ہے اور تمباکو نوشی کا تدارک کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہر برس تقریبا 5 ملین لوگوں کی موت ہو رہی ہے۔ جن میں تقریبا 1.5 ملین خواتین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 80 فیصد مرد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ کچھ ممالک میں خواتین کی ایک خاصی تعداد تمباکو نوشی کا استعمال کر رہی ہیں اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔عالمی سطح پر تمباکو نوشی سے ہونے والے مضر اثرات اور اس سے ہو رہے نقصانات کو دیکھتے ہوئے سنہ1987 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) کے رکن ممالک نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کے ذریعے 7 اپریل، 1988 سے ایک دن تمباکو نوشی کے انسداد کے منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے بعد سے ہر برس 31 مئی کو ’عالمی یوم انسداد تمباکو ‘( ورلڈ نْو ٹوباکو ڈے) منایا جاتا ہے۔ ہر برس 31 مئی کو دنیا میں مختلف پروگرام کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو تمباکو نوشی سے صحت پر پڑنے والے نقصان کے بارے میں اجاگر کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تمباکو نوشی کے استعمال سے ہونے والے نقصانات اور خطروں سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی اس پہل کو اچھی پیش قدمی سمجھا جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ بھارت میں عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر سخت پابندی ہے ، لیکن زمینی سطح پر اس پر کوئی خاص عمل نہیں ہو پا رہا ہے آئے روز عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں..ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور تمباکو نوشی سے ہو رہی شرح اموات میں کافی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ دور حاضر میں تمباکو نوشی کا رجحان اس قدر بڑھتا جا رہا ہے جس کو آج نوجوان نسل ایک فیشن کے طور پر اختیار کرتی جارہی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے کتنے خطرناک نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ حقیقت میں تمباکو نوشی نشے کی پہلی سیڑھی ہے اور اس سیڑھی پر چڑھنے والا انسان دیگر خطرناک منشیات کا عادی بن سکتا ہے، جس کی قیمت اسے یا تو کسی موذی بیماری یا جان گنوا کر چکانا پڑتا ہے۔