تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے حوالے سے درپیش مسائل افسردگی کا باعث

ذہنی کوفت کے شکار ،والدین میں بھی فکر وتشویش،سرکاری سطح پر ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت

سرینگر / / تعلیم کے نام پر زیر تعلیم طلبہ کو ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے اور بے روز گاروں کوعمرکی مقرر کردہ حد تک اُن کی تشنہ گی رہتی ہے۔لیکن جب وہ عمر کی حد پار کرتے ہیں تو اُن کا جگر پھٹنے کو آتا ہے اور کہیں ایسے خودکشی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ حالانکہ ہر انسان بالخصوص تعلیم یافتہ افراد خود کشی حرام ہونے اور اس پر بتائی گئی وعید سے متعلق پوری جانکاری رکھتے ہیں لیکن اگر حقیقت کی عینک سے دیکھا جائے تو تعلیم یافتہ بے روز گار نوجوانوں یا اُنکے والدین پر کیا بیت جاتا ہے ۔وہ کس پریشانی کی حالت میں ٹھوکریں کھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بے روز گار نوجوانوں اور ان کے والدین نے بتایا کہ وہ امید کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور عمر کا ایک خاص حصہ پڑھائی اور ڈگریاں حاصل کرنے پر گنواں دیتے اور والدین ان کو اس پراپنے خون پسینے کی کمائی صرف کرتے ہیں جس سے وہ گھریلوکاموں اور ضروری تجربوں سے ناواقف ہوتے ہیں وہ تو پڑھ لکھ کر معذور ہوچکے ہیں اور یہ نوجوان تعلیم یا ڈگریاں حاصل کرتے کرتے اپنی زندگی کا قیمتی وقت خرچ کرتے ہیں اور بعد میں روز گار کی تلاش میں دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے اپنا اہم وقت گنواں دیتے ہیں اور آخری لمحات تک ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں ہے کہ وہ تو اپنی روزی روٹی کیلئے پریشان ہیں بلکہ سماج میں بھی اس کے عزت و وقار میں نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ والدین سے لیکر تمام خیش واقارب تک ان کو ادنیٰ تصور کرتے رہتے ہیں ۔ہر جگہ پر ہورہے تبصروں اور مباحثوں میں ان کی یا تو تذلیل کی جاتی ہے یا بد قسمت ہونے کا الزام صادر فرماتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ شادی کیلئے روز گار کو مشروط بنایا جاتا ہے اوران تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کا شادی کے بندھن میں بندھ جانابھی دشوار بن جاتا ہے اور ان نوجوانوں کو جہاں بے روزگاری ستاتی ہے وہیں سماجی چیلنجزسے ان پر افسردگی چھا جاتی ہے اورلوگوں کے تانے بے روزگار نوجوان پر بارگراں گذرتی ہیں اور وہ خود سوزی یا خود کشی پر اترآتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات سے یہاں کی سرکا روموجودہ گورنر انتظامیہ بخوبی واقف ہیں اورٹھیک ہے کہ سرکار نوجوانوںکو لاکھوں کی تعداد میں سرکاری نوکریاں فراہم نہیں کرسکتی ہیں۔ لیکن کیاسرکار یہاں کے پرائیوٹ سیکٹر کو سمی گورنمنٹ بنا کر بے روزگاروں کے لئے روز گار کے مواقعے تلاش نہیں کرسکتی ہے؟سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کے علاوہ بہت سے ایسے وسائل اور ذرایعے سرکار کے پاس موجود ہیں لیکن بروئے کار لانے کی طرف توجہ مبذول نہیں کی جارہی ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوکریوں کا ہرایک کوجھانسہ دینے کے بجائے وسائل کو بروئے کار لاکرپرائیویٹ سیکٹر کو مستحکم بنانے سے بے روزگاری کا خاتمہ ممکن بنائیں ۔تاکہ حقیقی معنوں میں بیروزگار وں کیلئے وسائل پیدا ہوسکیں گے ۔